.

شرانگیز فلم کے امریکی پروڈیوسر کے سر کی قیمت بڑھ گئی

افغان عالم دین کا انعامی رقم کے لیے جائیداد بیچنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے ایک عالم دین نے شاتم رسول امریکی فلم پروڈیوسر اور توہین آمیز خاکے بنانے والے فرانسیسی کارٹونسٹ کو قتل کرنے والے کے لیے چار لاکھ ڈالرز کی مجموعی انعامی رقم کا اعلان کیا ہے۔

افغانستان کے مغربی صوبہ ہرات سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین میر فاروق حسینی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''میں نے اسلام مخالف فلم کے پروڈیوسر کو قتل کرنے والے شخص کو تین لاکھ ڈالرز اور فرانسیسی کارٹونسٹ کو قتل کرنے والے کو ایک لاکھ ڈالرز انعام کے طور پر دینے کا اعلان کیا ہے''۔

میر فاروق حسینی نے بتایا کہ ''میں نے گذشتہ جمعہ کو ہرات شہر کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ کے دوران اس انعامی رقم کا اعلان کیا تھا''۔انھوں نے کہا کہ ''میں انعامی رقم کو پورا کرنے کے لیے شہر میں موجود اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر دوں گا''۔

واضح رہے کہ پڑوسی ملک پاکستان کے وزیرریلوے غلام احمد بلور نے گذشتہ ماہ شاتم رسول امریکی فلم ساز سام باسیلی کو قتل کرنے والے شخص کو ایک لاکھ ڈالرز بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اگر حکومت اس شخص (سام باسیلی) کو میرے حوالے کردے تو میں اس کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردوں گا۔اس کے بعد وہ مجھے پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں''۔

بہتر سالہ غلام احمد بلور نے اس عظیم کام کے لیے طالبان جنگجوؤں اور القاعدہ سے مدد بھی طلب کی تھی۔ انھوں نے بعد میں ایک بیان میں اپنے اس اعلان کی توثیق کی اور کہا کہ ''میں اس پر قائم ہوں۔میں عدم تشدد کا قائل ہوں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو برداشت نہیں کیا جا سکتا''۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے وزیر ریلوے غلام احمد بلور کی جانب سے شاتم رسول فلم ساز کے ممکنہ قاتل کے لیے انعامی رقم کے اعلان کے بعد ان کا نام اپنی ہٹ لسٹ سے خارج کردیا تھا۔

امریکا نے غلام احمد بلور کے شاتم رسول فلم ساز کے ممکنہ قاتل کے لیے انعام کے اعلان کو نامناسب اور اشتعال انگیز قرار دیا تھا اورحکومتِ پاکستان نے وزیر ریلوے کی جانب سے شاتم رسول فلم ساز کے سر کی قیمت مقرر کرنے کے اعلان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا ۔

انٹرنیٹ پر گیارہ ستمبر کو جاری کی گئی شر انگیز فلم ''مسلمانوں کی معصومیت'' کا پروڈیوسر پچپن سالہ مصری قبطی عیسائی نیکولہ باسیلی نیکولہ ہے۔ وہ ایک سزا یافتہ فراڈیا شخص ہے اور اس وقت لاس اینجلس کی ایک جیل میں عدالت کو دھوکے دینے کے الزام میں قید ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیکولہ ہی نے اس شرانگیز فلم کا اسکرپٹ لکھا اور اس کو پروڈیوس کیا تھا اور وہ اپنی شناخت سے قبل جعلی نام سام باسیل استعمال کرتا رہا ہے۔

دنیا کے دوسرے مسلم ممالک کی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں امریکا میں بنی اس دل آزار فلم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔اکیس ستمبر کو پاکستان میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران بیس سے زیادہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

اس شر انگیز فلم کے خلاف مسلم دنیامیں احتجاجی مظاہروں کے دوران فرانس کے ایک مزاحیہ میگزین چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے شائع کر دیے تھے۔فرانسیسی میگزین کی اس جسارت کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔