.

حجاب مخالف افغانی خاتون اور مصری راھبہ نوبل مقابلے میں شریک ہیں

نوبل انعامی کی رقم میں 20 فی صد کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
نوبل انعام کے اعلان کا موسم آتے ہی پوری دنیا کے میڈیا اور سماجی حلقوں میں ایک نئی گہما گہما دیکھی جاتی ہے۔ امسال بھی سویڈن کے صدر مقام اسٹاک ہوم میں نوبل انعامات کے لیے نوبل کمیٹی پیر کے روز ادب، طب، سائنس، انسانی حقوق اور امن کے نوبل انعامات کے لیے امیدواروں کا چناؤ کرے گی جس کا باضابطہ اعلان 12 اکتوبر جمعہ کے روز کیا جائے گا۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق امن اور دیگر انعامات کے لیے امسال نوبل کمیٹی کے پاس 231 شخصیات کے نام آئے ہیں لیکن ان میں مصر کی عیسائی راھبہ ماگی جبران المعروف 'مصری مدر ٹریسا'، انسانی حقوق کے لئے افغانستان میں سرگرم کارکن سیما سمار اور امریکی ادیب جین ارب چوٹی کے امیدوار قرار دیے جا رہے ہیں۔ مصری مدر ٹریسا ملک کے نادار اور غریب طبقے کی بہبود سے متعلق اپنی خدمات کے اعتراف میں مقابلے میں شریک ہیں۔



افغانی سیما سمار کی بھی اپنے ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ سیماء سے متعلق دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ افغانستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں پردے اور حجاب کی سخت مخالفت کر رہی ہیں۔



امن کے نوبل انعام کا قرعہ فال ماگی جبران (مصری مدر ٹریسا) کے نام نکلا تو یہ مصر کی نوبل انعام پانے والی پانچویں شخصیت ہوں گی کیونکہ ان سے قبل بھی مصر ایسے چار نوبل انعامات حاصل کر کے اپنا ایک ریکارڈ بنا چکا ہے۔ مصر کا پہلا نوبل انعام سابق صدر انور سادات مرحوم، دوسرا معروف ادیب نجیب محفوظ، تیسرا سائنسدان احمد زویل اور چوتھا عالمی امن نوبل جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد البرادعی کے حصے میں آیا تھا۔



اسٹاک ہوم کی نوبل کمیٹی کے نوبل انعام کے لیے دیگر مجوزہ ناموں میں پرامن انقلاب اور عدم تشدد کےحامی ادیب جین چارب، روس کی انسانی حقوق کی ایک نجی تنظیم 'رشین میموریل فاؤنڈیشن' اور اس کی بانی سفٹلانا گانوشکینا، روس کے پرائیویٹ میڈیا گروپ 'صدائے ماسکو' اور اس کے بانی فینیدیکٹوف، کیوبا کے اوسکار ایلیاس بیسیٹ، صومالی افسانہ نگار نور الدین فرح اور دیگر نام بھی شامل ہیں۔



'یونی بیٹ' ویب پورٹل کے مطابق نوبل انعام کے متوقع امیدواروں میں اس سال چین اور جاپان بھی شامل ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایشیا میں ادب کے نوبل انعام کے لیے انہی دو ملکوں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ چین کے مویان اور جاپانی ہاروکی موراکامی درجہ اول کے ادیب شمار کیے جا رہے ہیں، ادب کے نوبل انعام کا قرعہ فال انہی میں سے کسی ایک کے نام نکل سکتا ہے۔ یہ بھی خبر عام ہے کہ نوبل کمیٹی شمالی امریکا سے کسی امیدوار کا انتخاب لازمی کرے گی۔ عین ممکن ہے وہ امیدوار ڈون ڈولیلو ہوں گے جن کا ادب کے میدان میں صومالوی نور الدین فرح کے ساتھ مقابلہ ہے۔



واضح رہے کہ عالمی اقتصادی بحران نے نوبل کمیٹی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس سال نوبل کمیٹی نے بھی سنہ 2001ء کے بعد پہلی مرتبہ نوبل انعام کی رقم میں بھی 20 فی صد کمی کی ہے۔ پہلے یہ رقم 10 ملین کورون (930940 یورو) تھی جسے کم کر کے آٹھ ملین کورون کر دیا گیا ہے