.

سوڈان باغیوں کے ریاستی دارالحکومت پر حملے میں پانچ ہلاک

سیاسی لیڈروں کی کانفرنس کے دوران گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوڈان کی جنوبی سوڈان کی سرحد کے ساتھ واقع ریاست جنوبی کردوفان کے دارالحکومت پر باغی جنگجوؤں نے مارٹروں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور تئیس زخمی ہوگئے ہیں۔

سوڈان کی فوج کے ترجمان السوارمی خالد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ باغیوں نے صوبائی دارالحکومت کادوغلی سے چھے کلومیٹر دور سے آٹھ گولے فائر کیے ہیں۔انھوں نے الزام عاید کیا کہ باغیوں نے یہ حملہ ایسے وقت کیا جب شہر میں سیاسی لیڈروں کی ایک کانفرنس ہورہی تھی۔سوڈانی صدرعمر حسن البشیر کے مشیر نافعی علی نافعی بھی اس کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے۔

باغیوں کے ترجمان آرنو لودی نے شہر پر گولہ باری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ''یہ بمباری سرکاری فوج کے ہمارے ٹھکانوں پر حملے کے ردعمل میں کی گئی ہےاور کانفرنس کو سبوتاژ کرنا ہمارا مقصد نہیں تھا۔اب ہم حکومت کو ہٹانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے''۔

خرطوم حکومت نے جنوبی سوڈان پر باغیوں کی پشت پناہی اور انھیں اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔واضح رہے کہ سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان بین الاقوامی دباؤ کے بعد گذشتہ ماہ ہی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے معاہدہ طے پایا تھا لیکن اس کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر کشیدگی جاری ہے۔

جنوبی کردوفان میں سرکاری فوج اور سوڈان پیپلز لبریشن تحریک شمالی (ایس پی ایل ایم۔این) سے تعلق رکھنے والے باغیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔سوڈان کی اس ریاست میں جنوبی سوڈان کی گذشتہ سال جولائی میں علاحدگی کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔