.

شام میں ترک رہنما کا مزار، دمشق کے لئے شجر ممنوعہ قرار

"مزار کو گزند پہنچا تو پشتوں کے پشتے لگا دیں گے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی نے شام کو خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں جاری لڑائی کے دوران حلب شہر میں ترک رہنما سلیمان شاہ کے مزار کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو انقرہ، دمشق کے خلاف طبل جنگ بجانے میں دیر نہیں لگائے گا۔

ترک روزنامے "صباح" کے مطابق گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے خطاب میں وزیر اعظم طیب رجب ایردوآن نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت حاصل کرتے وقت چار ایسی 'ریڈ لائنز' [شجر ممنوعہ] بیان کی تھیں کہ جنہیں پار کرنے پر دمشق، ترک فوجی کارروائی سے بچ نہیں سکے گا۔

ان 'ریڈ لائنز' میں پہلا نکتہ یہ تھا: "اگر شام نے ترکی کے کسی ٹھکانے، بشمول شام ہی میں موجود ترک رہنما سلیمان شاہ کے مزار، کو نشانہ بنایا تو انقرہ اس کے جواب میں فوجی کارروائی میں تامل نہیں کرے گا۔

دوسری 'ریڈ لائن' یہ بیان کی گئی: "اگر شام نے ہمسایہ ملکوں کی مشکلات میں اضافے کی کوشش کی تو ایسے میں بھی ترک عسکری کارروائی ناگریز ہو جائے گی۔ نیز اگر دمشق نے شمالی شام میں کرد ورکرز پارٹی 'پی کے کے' کے حق میں زمین ہموار کرنے کی کوشش کی تو اس کا جواب بھی انقرہ فوجی ایکشن کی صورت میں دے گا۔

اخبار کے مطابق ترک رہنما سلیمان شاہ کا حلب میں مزار انقرہ کے لئے ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ یہ مزار گزشتہ آٹھ سو سال سے حلب کے قریب پہاڑی قصبے'قرہ قوزاک' میں 8797 مربع میٹر پر محیط ہے۔ مزار کے رقبے پر خود شامی حکومت کو کو بھی تصرف کا اختیار نہیں ہے۔ ترکی مزار کے احاطے کو شام میں اپنا معنوی سفارتخانہ تصور کرتا ہے۔

یہاں ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت آسودہ خاک ہیں کہ جو اپنے قبیلے کے پانچ ہزار افراد کے ہمراہ سن 1220 میں مغلوں کے حملے سے بچ کر ایشیا سے مشرقی ترکی کے قریب آرمینیا میں آباد ہو گئے تھے۔ دس برس بعد سلیمان شاہ دریائے فرات عبور کر کے شامی شہر الرقہ کے 'جعبر' قصبے پہنچے۔ دریا عبور کرنے میں انہیں درپیش مشکلات آئیں جس کے باعث وہ ڈوب کر شہید ہو گئے، جس کے بعد انہیں وہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مرحوم کے صاحبزادے ارطغرل نے اپنے باقی ساتھیوں کے ہمراہ مغرب کی سمت اپنی پیشقدمی جاری رکھی۔ انہوں نے 1264 میں سلاجکوں کے ساتھ ملکر 'قرہ جہ طاغ امارات' کی داغ بیل رکھی۔ اسی امارات سے جنگوں اور توسیعات کا سلسلہ شروع ہو گیا جسے ان کے بیٹے نے مکمل کیا۔ یہی شخصیت سلطنت عثمانیہ کی بانی تھی جس نے بعد میں 622 تک خلافت کے پرچم تلے حکومت کی۔

جدید ترکی کے قیام اور شام پر فرانسیسی انتداب کے آغاز پر دونوں ملکوں نے 'معاہدہ انقرہ' پر دستخط کئے جس کے بموجب فرانسیسی انتداب نے اس مزار کے احاطے کو شامی سرزمین پر ترک سفارتخانہ تسلیم کرلیا۔

شام کی سپریم پیپلز کونسل نے سن 1921 میں اس معاہدے کی توثیق کی اور دو برس بعد فرانسیسی انتداب نے بھی اس کی منظوری دے دی۔ سن 1923 سے اس مزار پر ترک پرچم لہراتا ہے اور وہاں ترک فوجی گارڈ کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ان تاریخی حقائق کی روشنی میں اس مزار کو پہنچائے جانے والا کوئی بھی گزند ترک ۔ شام جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔