.

قذافی کے انٹیلجنس چیف کی بیٹی طرابلس سے گرفتار

ملک میں غیر قانونی طور پر داخلے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبی حکام نے سابق مقتول صدر کرنل معمر القذافی کے دست راست اور سابق انٹلیجنس چیف عبداللہ السنوسی کی صاحبزادی کو ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں دارلحکومت طرابلس کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے سپریم سیکیورٹی کمیٹی کے اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے مسٹر السنوسی کی اٹھارہ سالہ بیٹی العنود السنوسی معمر القذافی کی بیوہ صفیہ کی قریبی عزیز بھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق العنود کو طرابلس کے مرکز سے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ان پر لیبیا میں جعلی پاسپورٹ پر داخل ہو کا الزام ہے۔ العنود سے بڑی تعداد میں امریکی ڈالرز بھی برآمد ہوئے ہیں تاہم ان رقم کی مالیت معلوم نہیں ہو سکی۔

عبداللہ السنوسی پر لیبیا کے عام شہریوں کے خلاف انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کا الزام لگایا گیا تھا۔ وہ ہیگ میں عالمی جرائم عدالت کو انسانیت سوز جرائم کی پاداش میں قائم مقدمات کے ٹرائل کے لئے مطلوب ہیں۔

نیز وہ فرانس کو 1989ء میں طیارہ بم کیس میں بھی مطلوب ہیں، تاہم حکام کے مطابق ان کی بیٹی العنود پر انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کا الزام نہیں۔ انہیں صرف ملک میں جعلی پاسپورٹ پر غیر قانونی طریقے سے داخلے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا ہے۔

یاد رہے العنود کے والد عبداللہ السنوسی کو سات ماہ قبل موریتانیہ کے صدر مقام نواکشوط پہنچنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ مراکش سے مالی کے جعلی پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے۔ گرفتاری کے بعد انہیں موریتانوی حکام نے گزشتہ ماہ لیبیا کے حوالے کر دیا تھا۔