.

لیبیی وزیر اعظم کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد

ابو شاقور نے من پسند وزارتوں کا مطالبہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیی وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفیٰ ابو شاقور کے انتخاب کو ابھی ایک ماہ بھی مکمل نہیں ہوا کہ ملک کی جنرل نیشنل کانگریس نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے، جس کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں اور حکومتی ایوانوں میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ دوسری جانب نگراں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں من پسند وزارتوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ہر کسی کو اپنی مرضی کی وزارت دینا ممکن نہیں ہے۔



اطلاعات کے مطابق نگران وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفیٰ شاقور نے اپنی دس رکنی کابینہ میں شامل وزراء کے ناموں کی فہرست نیشنل کانگریس [قومی اسبمبلی] کے سامنے پیش کی۔ کانگریس کے اجلاس میں کابینہ کے ارکان کے چناؤ کے لیے رائے شماری کے چند منٹ بعد نگراں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کر دی گئی۔ نیشنل کانگریس کا کہنا ہے کہ ابو شاقور نے اپنی کابینہ میں جن ناموں کا انتخاب کیا ہے، ان میں سے بیشتر کا تعلق اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ سے ہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ چھے ماہ کے لیے عارضی کابینہ کے انتخاب میں کوئی معروف نام یا لبرل حلقوں سے کسی شخصیت کا انتخاب نہیں کیا گیا۔



اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وزیر اعظم مصطفیٰ ابو شاقور نے کہا کہ میں نے وزراء کے ناموں کی جو فہرست پیش کی ہے وہ قابل اصلاح ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی حلقے اپنی من پسند وزارتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہر ایک کو اپنی مرضی کی وزارت دینا ان کے بس میں نہیں ہے۔



وزیر اعظم پر عدم اعتماد کے اظہار کے بعد نیشنل کانگریس کے پاس اب دو آپشن ہیں یا عدم اعتماد کا فیصلہ واپس لے اور ڈاکٹر مصطفیٰ ابو شاقور کی کابینہ کو تسلیم کرے یا نئے نگراں وزیر اعظم کا انتخاب کرے۔ خیال رہے کہ مذہبی پس منظر رکھنے والے مصطفیٰ ابو شاقور کو 12 ستمبر کو لیبیا کا نگراں وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا۔