.

یمں تاجروں کے بھیس میں ایرانی جاسوسی نیٹ ورک کا انکشاف

"نیٹ ورک میں شامی، ایرانی اور یمنی شہری شامل ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمنی وزارت دفاع کی سرکاری ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ دارلحکومت صنعاء، عدن اور دیگر یمنی شہروں میں ایرانی اور شامی شہری تہران کے لئے جاسوسی کر رہے ہیں۔ جاسوسی کے اس نیٹ ورک سے وابستہ متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن میں ایرانی جاسوسی کا ایک مضبوط نیٹ ورک کام کر رہا ہے جس میں ایرانی، شامی اور خود یمنی شہری ملوث ہیں۔ انہیں یمن کے دارلحکومت، عدن اور دیگر گورنریوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کے پورٹل کے مطابق گرفتار شدہ ایرانی، یمن میں سرمایہ کاروں کے بھیس میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ملک میں فیکٹری لگانے کا اجازت نامہ حاصل کیا، جس کے بعد عدن کی بندرگاہ کے ذریعے فیکٹری کے لئے ساز و سامان لایا جانے لگا، تاہم یمن سامان لانے والے کنٹینرز کی تلاشی پر انکشاف ہوا کہ ان میں تعمیراتی سامان نہیں بلکہ دشمنانہ کارروائی کی غرض سے اسحلہ لایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یمن لائے جانے والے سامان کو بم بنانے سے لیکر متنوع اسلحہ بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران سیکیورٹی اداروں نے پراجیکٹ سے منسلک ایرانیوں کو گرفتار کیا اور دوران تفتیش انہوں نے ساری کہانی کا پردہ چاک کر دیا۔

یاد رہے کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی نے گزشتہ ہفتے امریکا میں ایک لیکچر کے دوران واضح کیا تھا کہ ایران جنوبی یمن میں ایک علاحدگی پسند جماعت کی حمایت کر رہا ہے۔ ویب سائٹ نے عبد ربہ کا بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے لئے یمن میں جاسوسی کرنے والے پانچ نیٹ ورکس کا سراغ لگایا ہے اور حال ہی میں ایک چھٹے نیٹ ورک کا بھی سراغ ملا ہے۔

یمن ماضی میں بھی ایران پر ملک کے شمالی علاقے میں شیعہ مسلک حوثیوں کو مدد فراہم کرانے کا الزام عائد کر چکا ہے۔