.

سعودی مقابلہ حسن جہاں معیار ظاہری جمال نہیں، حسن اخلاق ٹہرا

مرام آل سیف کی بطور 'سیدہ الاخلاق' تاج پوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب میں منفرد مقابلہ حسن منعقد ہوا، جہاں جیت کی کسوٹی ظاہری جمال نہیں بلکہ حسن اخلاق قرار پائی تھی۔ اس مقابلے میں پہلی پوزیشن تاروت جزیرہ سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ مرام زکی آل یوسف نے حاصل کی۔ ملکہ حسن اخلاق کا ٹائیٹل جیتنے والے مرام کو انعام کے طور پر سونے کا تاج اور دس ہزار سعودی ریال دیئے گئے۔

ملکہ حسن اخلاق کا یہ مقابلہ سعودی عرب کے مشرقی ریجن کی القطیف گورنری کے کنگ عبداللہ نیشنل اسٹڈیم میں گزشتہ شب منعقد ہوا، جس میں الاحسا کی فاطمہ عبدالجلیل اور فاطمہ سعید البیک رنر اپ رہیں۔ انہیں پانچ پانچ ہزار سعودی ریال بطور کیش ایوارڈ دیئے گئے۔

مقابلے میں سیدہ الاخلاق کا ٹائیٹل جیتے والی مرام آل سیف نے دوسرے مرحلے میں پہنچنے والی پانچ دوشیزاؤں کو شکست دی۔ پہلے مرحلے میں سولہ سے چوبیس برس کی دس دوشیزاؤں کے درمیان مقابلہ تھا، جن میں پانچ خوش نصیب دوسرے اور فائنل راؤنڈ میں پہنچیں تھیں۔

دوسرے اور فائنل راؤنڈ میں پہنچنے والی پانچوں دوشیزاؤں سے ایک ہی سوال کیا گیا کہ "اگر آپ سیدہ الاخلاق کا ٹائیٹل جیتنے میں کامیاب ہوئی تو آپ کی صلاحیتوں پر اس کامیابی کیا اثرات مرتب ہوں گے؟"

مقابلہ جیتنے والی دوشیرہ مرام آل سیف کا کہنا تھا کہ اس کامیابی سے مجھے اپنے ان خوابوں کو پورا کرنے میں مدد ملے کہ جو میں نے اپنے دیگر ہم وطنوں میں یہ احساس بیدار کرنے کے حوالے سے دیکھ رکھے ہیں کہ وہ معاشرے کو پوری طرح تبدیل کرنے کے اہل ہیں۔ مجھے سیدہ الاخلاق کا ٹائیٹل جیت کر 'اسپشل لوگوں کے لئے ملازمت کے مواقع' سے متعلق اپنا منصوبہ بہتر طور مکمل کرنے میں سہولت ہو گی۔ میں ایسے لوگوں کی بہتری کے لئے کام کرنے والے اداروں اور افراد سے اعتماد کے ساتھ کوارڈی نیٹ کر پاؤں گی۔

مقابلے میں شریک دوشیزاؤں کی امہات، خواتین، میڈیا اور سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی نمائندہ خواتین نے بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ پروگرام کا اہتمام مشرقی ریجن کی خواتین ڈائریکٹر لطیفہ التمیمی نے کیا۔ اس سال منتخب ہونے والی سیدہ الاخلاق نے 'میرا اخلاق، میری شناخت' کے عنوان سے مقابلے میں شرکت کی۔