.

شامی صدر اور اتحادیوں کی اردن کو غیر مستحکم کرنے کی سازش

حزب اختلاف کو شاہی خاندان کے مقابل لانے کی سعیٔ ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
العربیہ کے ہاتھ لگنے والی شام کی خفیہ دستاویزات سے یہ نیا انکشاف ہوا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور ان کے اتحادیوں نے پڑوسی ملک اردن میں عوامی احتجاجی مظاہروں پر اثر انداز ہو کر اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی تھی۔

شام اور اردن کے تعلقات سے متعلق یہ تازہ انکشافات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اردن میں سیاسی کشیدگی پائی جارہی ہے۔شاہ عبداللہ دوم نے پارلیمان کو تحلیل کرکے قبل ازوقت انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ اس کے دارالحکومت عمان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

العربیہ الحدث کے ہاتھ لگنے والی خفیہ فائلوں سے یہ پتا چلا ہے کہ شامی رجیم نے روس اور ایران سے مل کر اردنی مظاہرین کو مسلح کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ شامی حکومت پر پڑنے والے عالمی دباؤ کو کچھ ہلکا کیا جا سکے اور شامی بحران کو اردن میں برآمد کیا جاسکے۔

یہ خفیہ دستاویزات شامی حزب اختلاف کے ارکان کی معاونت سے العربیہ کے ہاتھ لگی ہیں۔تاہم انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ وہ کیسے ان دستاویزات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

پُرامن مظاہرے

گذشتہ جمعہ کو اردن کے دارالحکومت عمان میں اسلام پسندوں کے ہزاروں حامیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور یہ عرب بہاریہ تحریکوں کے زیراثر اردن میں سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ مظاہرین نے شاہ عبداللہ دوم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جمہوری اصلاحات کے عمل کو تیز کریں۔

''قوم کی نجات'' کے لیے اس ریلی کا اہتمام اردن کی اخوان المسلمون نے کیا تھا اور اس میں بھی وسیع البنیاد سیاسی نمائندگی اور ایک جمہوری پارلیمان کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

گذشتہ جمعہ کو ہونے والے ان جلسے جلوسوں میں پُرامن مظاہرین نے شرکت کی تھی۔تاہم افشاء ہونے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق شامی حکومت اردن میں مداخلت کے لیے منصوبہ بندی کرتی رہی تھی اور اس نے مظاہروں کو پُرتشدد بنا کر اردنی حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تھی۔

پانچ مارچ کو شام کے خصوصی آپریشنز یونٹ کے سربراہ بریگیڈئیر حسن عبدالرحمان نے بیرون ملک کارروائیوں کے رابطہ کار کرنل فواد فضل اور اردن میں متعین شامی سفیر بہجت سلیمان کو ایک خط بھیجا تھا ۔اس خط میں حسن عبدالرحمان نے اردن میں شامی حکومت کے حامی مسلح سیلوں کو گڑبڑ کرانے کا حکم دیا تھا۔انھوں نے اردن کی سرحد پر شامی فوج کے اشتعال انگیز اقدامات کی درخواست کی تھی۔

عبدالرحمان نے فضل اور سلیمان سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسلام پسندوں اور خاص طور اخوان المسلمون کے ساتھ رابطے کے ذریعے اردن کی شاہراہوں پر بڑے بڑے مظاہروں کو منظم کریں تاکہ اردن کی حکومت کو دباؤ کا شکار کیا جاسکے۔

قطر اور ترکی کے بعد شامی رجیم نے اردن میں بھی ریاستوں کو سبکی کاشکار کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھا تھا۔

ایک اور فائل کے مطابق انتیس اپریل کو حسن عبدالرحمان نے فضل اور سلیمان کو ایک اور خط لکھا تھا۔اس میں بھی شاہ عبداللہ اور ان کے خاندان پر عوامی دباؤ کو بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا گیا تھا۔مکتوب نگار نے لکھا تھا کہ ان کے احکامات روس ،ایران اور شام کی مشترکہ کمان کی سفارشات اور معلومات کی بنیاد پر جاری کیے گئے تھے۔

شام کی مزید منکشف ہونے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ منحرف ہوکر اردن جانے والے فضائیہ کے ایک پائیلٹ کا قصہ بھی غداری کے جرم میں پاک کرنے کے لیے واضح احکامات دیے گئے تھے۔ایک اور دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ شامی قیدیوں کو سعدنیہ جیل سے اردن بھیجا گیا تھا۔

اگر شامی صدر بشارالاسد نے پڑوسی ملک اردن میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی تھی تو العربیہ کے ہاتھ لگنے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس سازش میں روس اور ایران بھی پوری طرح ان کے برابر کے شریک تھے۔