.

عراق، روس سے 4 ارب 20 کروڑ ڈالرز کا اسلحہ خریدے گا

روس، امریکا کے بعد اسلحے کا دوسر بڑا برآمد کنندہ ملک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق نے روس سے چار ارب بیس کروڑ ڈالرز مالیت کے اسلحے کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔

ماسکو میں منگل کو عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور روسی وزیر اعظم دمتری میدویدیف کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں ان معاہدوں کی اطلاع دی گئی ہے۔

اس بیان کے مطابق ان معاہدوں پر عراق کے قائم مقام وزیر دفاع کے اپریل، جولائی اور اگست میں روس کے دوروں کے موقع پر دستخط کیے گئے تھے لیکن معاہدوں سے متعلق مزید کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پائے معاہدوں کے بعد روس، امریکا کے بعد عراق کو اسلحے کا دوسر بڑا برآمد کنندہ ملک بن جائے گا۔ روس، عراقی وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر ان سے شام سے متعلق بھی ایک معاہدے طے کرنے کا خواہاں ہے۔

نوری المالکی نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ''عراق شامی بحران کا سیاسی حل چاہتا ہے، وہ بحران کے حل کے لیے تشدد کا مخالف ہے اور اس نے اسد حکومت کے مفادات یا مسلح حزب اختلاف کے مفادات کے پیش نظر شام میں کوئی مداخلت نہیں کی ہے''۔

روس کے عسکری امور کے ایک تجزیہ کار اور ایک تجارتی روزنامے ویدو موستی کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان چار ارب بیس کروڑ ڈالرز مالیت کے طے پائے معاہدوں کے تحت روس عراق کو 30 ایم آئی۔28 لڑاکا ہیلی کاپٹرز اور بیالیس پانتسیر ایس ون زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل سسٹم دے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان مِگ 29 لڑاکا طیاروں اور دوسرے بھاری اسلحہ کی عراق کو فروخت کے لیے بات چیت ابھی جاری ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر عراق کو اسلحے کی فروخت کا یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ 2006ء کے بعد مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کے ساتھ روس کا پہلا بڑا سودا ہو گا۔