.

نیٹو ضرورت پڑنے پر ترکی کے دفاع کے لیے تیار

یواین سیکرٹری جنرل کی شام میں یک طرفہ جنگ بندی کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد ترکی پر حملے کی صورت میں اس کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شامی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کرے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے برسلز میں منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے ضرورت پڑنے پر ترکی کے دفاع کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شامی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ خونریزی کے خاتمے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کرے۔

انھوں نے کہا کہ ''شامی عوام کے لیے یہ ناقابل برداشت ہوچکا ہے کہ وہاں خونریزی کا سلسلہ جاری رہے۔اسی وجہ سے میں نے شامی حکومت کو اپنا یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ وہ فوری اور یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں''۔

پیرس میں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ انھیں شامی حکومت کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ اگر وہ جنگ کا اعلان کرتی ہے تو اس کے جواب میں حزب اختلاف کیا ردعمل ہو گا''۔

بین کی مون کا کہنا تھا کہ ''وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے شام میں جنگ بندی سے متعلق تبادلہ خیال کررہے ہیں۔انھوں نے شامی حزب اختلاف پر زوردیا کہ اگر شامی حکومت جنگ بندی کا اعلان کرتی ہے تو وہ بھی یک طرفہ پر اس کے ردعمل میں ایسا ہی کرے''۔سیکرٹری جنرل نے شام کے کسی بھی فریق کو اسلحہ مہیا کرنے والے ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شامی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے اب یہ سلسلہ بند کردیں۔