.

اسرائیلی فضائی ٹریفک نامعلوم وجوہ کی بنا پر عارضی طور پر معطل

غیر مسلح ڈرون کو مار گرانے کے بعد غیر معمولی واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل میں بدھ کی صبح فضائی حدود میں کسی نامعلوم رکاوٹ کی بنا پر سول فضائی ٹریفک کو کچھ وقت کے لیے معطل کیا گیا ہے۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو کی اطلاع کے مطابق صہیونی ریاست کی فضائی حدود کو ہر قسم کے فضائی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا لیکن چند ثانیوں کے بعد پروازوں کو بحال کر دیا گیا۔

تاہم آرمی ریڈیو نے یہ نہیں بتایا کہ اسرائیل کی فضائی حدود کو کیوں بند کیا گیا تھا لیکن اس اقدام ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے گذشتہ ہفتے کے روز ایک بغیر پائیلٹ اور غیر مسلح نامعلوم جاسوس طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد اسرائیل میں موجود تناؤ کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اختتام ہفتہ پر پیش آئے اس واقعہ سے متعلق بدھ کو نئی تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔ آرمی ریڈیو اور اسرائیلی روزنامے یدیعوت احرنوت کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائِیہ نے دوسری کوشش میں اس ڈرون کو مار گرایا تھا۔

ان دونوں کی رپورٹس کے مطابق ڈرون پر پہلا میزائل ایف سولہ جنگی طیارے سے فائر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس پر اسرائیلی فوج کا جدید پینتھر میزائل داغا گیا تھا۔ اسرائیلی فضائیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون کی فضائی حدود میں دراندازی سے ہماری کسی ناکامی کی نشاندہی نہیں ہوتی کیونکہ کوئی اور فضائی قوت بھی اس دراندازی کو نہیں روک سکتی تھی۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کو غلط الارم پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا اور نہ مذکورہ رپورٹس پر کوئی تبصرہ کیا ہے کہ ایف سولہ طیارہ پہلی کوشش میں ڈرون کو مارگرانے میں کیوں ناکام رہا تھا۔

اسرائیل کے فوجی حکام اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ ڈرون کہاں سے آیا تھا؟ البتہ یہ شُبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے 2006ء میں بھی حزب اللہ کا ایک غیر مسلح ڈرون مار گرایا تھا۔