.

ایران مغرب کی جابرانہ پابندیوں پر قابو پالے گا خامنہ ای

چند ایک مظاہرین کو دیکھ کر ہمارے دشمن خوش ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مغرب کی عاید کردہ جابرانہ اقتصادی پابندیوں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

علی خامنہ ای نے شمال مشرق صوبہ شمالی خراسان میں بدھ کو ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ پابندیاں ظلم وبربریت ہیں۔ یہ ایک قوم کے خلاف جنگ ہے لیکن ایرانی قوم ان کو شکست سے دوچار کرے گی''۔ان کی یہ تقریر سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ''چند ایک لوگوں نے دو شاہراہوں پر مظاہرہ کیا تھا۔ انھوں نے دو کوڑے دانوں کو جلایا تھا اور ہمارے دشمن اسی پر خوش ہو گئے تھے لیکن ہمارے دشمنوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ ایران ان مسائل پر قابو پالے گا اور ان کو شکست سے دوچار کرے گا''۔

انھوں نے مغرب پر یہ الزام عاید کیا کہ ''وہ ایران پر عاید پابندیاں ہٹانے سے متعلق اپنی پیش کش کے حوالے سے کذب بیانی سے کام لے رہا ہے''۔

مغربی ممالک ایران سے یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کی ضمانت دے تو اس پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔

خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ''پابندیوں سے ان کے ملک کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں اور کسی حد تک بد انتظامی سے بھی ان مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے''۔تاہم انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ان کا ملک 1979ء کے بعد سے مختلف پابندیوں کا ہدف رہا ہے۔

انھوں نے اس نعرے کو بھی مسترد کردیا کہ ان پابندیوں کا مغربی ممالک کے دعوے کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے کوئی تعلق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن (امریکا اور بعض یورپی حکومتیں) آج کل پابندیوں کو ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام سے جوڑ رہے ہیں لیکن وہ صریحاً جھوٹ بول رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ ،امریکا اور یورپی یونین نے گذشتہ دوسال کے دوران ایران پر مختلف النوع پابندیاں عاید کی ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں اگست سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت چالیس فی صد تک گر چکی ہے جس کی وجہ سے ملک میں افراط زر کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکا اور یورپی یونین کی عاید کردہ حالیہ پابندیوں کے بعد ایران کی تیل کی برآمدات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ دارالحکومت تہران میں گذشتہ ہفتے شہریوں نے روز افزوں مہنگائی کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور حکومت سے معاشی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔