معمر القذافی نفسیاتی مریض ہیں، سادات بچ کر رہیں شاہ فیصل

انور سادات کو بیٹی کے ذریعے سعودی فرمانروا کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

رقیہ انور سادات نے اپنی کتاب میں پانچ ستمبر1981ء کو مصر کے طول و عرض میں ہونے والی اندھا دھند گرفتاریوں کے بارے میں بھی چند انکشافات کیے ہیں۔ یہ گرفتاریاں محض سیکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر کی گئی تھیں، جس کے باعث حکومت کو سخت عوامی تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مسسز رقیہ رقمطراز ہیں: "اس وقت مصر نائب صدر حسنی مبارک، وزیر داخلہ، جنرل انٹیلی جنس چیف اور دیگر اعلیٰ حکام نے صدر کو سفارش کی تھی کہ ملک میں افراتفری کی روک تھام کے لیے ٹارگٹ آپریشن کرتے ہوئے مشتبہ افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔"

"بڑے پیمانے پر لوگوں کی گرفتاریاں اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کے بارے میں میرے والد متذبذب تھے لیکن حسنی مبارک اور سابق وزیر داخلہ کے مسلسل اصرار پر صدر انور سادات نے پانچ ستمبر1981ء کو کئی شہروں میں کریک ڈاؤن کا حکم دیا کیونکہ جب ریاست کے تمام اہم کل پرزے آپ کے سامنے ایسی بھیانک تصویر پیش کر رہے ہوں تو متوقع صورتحال پیدا ہونے سے بچانے کے لئے میرے والد کے پاس کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں