.

معمر القذافی نفسیاتی مریض ہیں، سادات بچ کر رہیں شاہ فیصل

انور سادات کو بیٹی کے ذریعے سعودی فرمانروا کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے مقبول عام فرمانروا شاہ فیصل مرحوم لیبیا کے مقتول صدر کرنل معمر القذافی کو 'نفیساتی مریض' سمجھتے تھے۔ انہوں نے مقتول مصری صدر انور سادات کی بیٹی رقیہ سادات کے ذریعے ان کے والد کو پیغام بھجوایا تھا کہ وہ [سادات] قذافی سے خبردار رہیں۔ "مصر میں 5 ستمبر کو 1981ء کو ہونے والی گرفتاریوں کا محرک اس وقت کے نائب صدر حسنی مبارک تھے۔ حسنی مبارک، انور سادات کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔"

یہ انکشافات انور سادات کی بیٹی رقیہ سادات نے حال ہی میں شائع ہونے والی خود نوشت میں کئے ہیں۔ رقیہ کی خود نوشت کا ان دنوں مصر اور عرب دنیا میں بہت چرچا ہے کیونکہ اس میں مرحوم صدر کی صاحبزادی نے کئی اہم سربستہ رازوں سے پردہ ہٹایا ہے۔

رقیہ سادات نے خود نوشت میں شاہ فیصل سے حج کے بعد اپنی 1972ء میں ہونے والی ایک ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ اس ملاقات میں عالم اسلام کے مقبول سعودی رہنما نے انہیں انور سادات کے لئے ایک زبانی پیغام دیا۔ بہ قول رقیہ سادات، شاہ فیصل کا کہنا تھا: "اپنے والد کو میرا پیغام دیں کہ وہ 'نفسیاتی مریض' لیبی رہ نما معمر القذافی سے خبردار رہیں۔" رقیہ سادات نے شاہ فیصل مرحوم سے حیران ہو کر کہا، جلالہ الملک آپ کیا کہ رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: "اگرچہ صاحب صدر خود بھی اس بات سے آگاہ ہیں، لیکن میں تاکید مزید کے طور پر کہہ رہا ہوں۔ بس انور سادات تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں۔"

حسنی مبارک: تاریخی کریک ڈاؤن کا محرک

رقیہ انور سادات نے اپنی کتاب میں پانچ ستمبر1981ء کو مصر کے طول و عرض میں ہونے والی اندھا دھند گرفتاریوں کے بارے میں بھی چند انکشافات کیے ہیں۔ یہ گرفتاریاں محض سیکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر کی گئی تھیں، جس کے باعث حکومت کو سخت عوامی تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مسسز رقیہ رقمطراز ہیں: "اس وقت مصر نائب صدر حسنی مبارک، وزیر داخلہ، جنرل انٹیلی جنس چیف اور دیگر اعلیٰ حکام نے صدر کو سفارش کی تھی کہ ملک میں افراتفری کی روک تھام کے لیے ٹارگٹ آپریشن کرتے ہوئے مشتبہ افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔"

"بڑے پیمانے پر لوگوں کی گرفتاریاں اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کے بارے میں میرے والد متذبذب تھے لیکن حسنی مبارک اور سابق وزیر داخلہ کے مسلسل اصرار پر صدر انور سادات نے پانچ ستمبر1981ء کو کئی شہروں میں کریک ڈاؤن کا حکم دیا کیونکہ جب ریاست کے تمام اہم کل پرزے آپ کے سامنے ایسی بھیانک تصویر پیش کر رہے ہوں تو متوقع صورتحال پیدا ہونے سے بچانے کے لئے میرے والد کے پاس کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔"