.

بشار الاسد کے حکم پر کرد سیاست دان مشعل تمو کا قتل العربیہ لیکس

ترکی کو ہم نوا بنانے کے لیے دمشق حکومت کی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے معروف کرد سیاست دان مشعل تمو کو 7 اکتوبر 2011ء کو صدر بشار الاسد کے براہ راست حکم پر قتل کیا گیا تھا۔

اس بات کا انکشاف العربیہ الحدث پر بدھ کو نشر ہونے والی شام کی خفیہ دستاویزات میں کیا گیا ہے۔ واقعے کی تفصیل کے مطابق چار مسلح افراد نے شامی صدر بشار الاسد کے شدید ناقد مشعل تمو کے مشرقی شہر قامشیلی میں واقع گھر پر دھاوا بول دیا تھا۔ان کے حملے میں تمو قتل، ان کا بیٹا مرسل اور ان کی جماعت کرد مستقبل تحریک کا ایک کارکن زخمی ہو گئے تھے۔

العربیہ کے ہاتھ لگنے والی لیک فائل کا عنوان ''آپریشنل آرڈر'' ہے۔ اس پر تین اکتوبر کو دستخط کیے گئے تھے اور اس کو صدارتی محل کی درخواست پر کرنل سقر منون نے جاری کیا تھا۔یہ حکم نامہ فضائیہ انٹیلی جنس ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کرنل جودت حسن کو بھیجا گیا تھا۔اس میں کرنل حسن کو فوری طور پر صوبہ حسکہ جانے، وہاں مشعل تمو کو قتل کرنے اور وہاں سے فوری لوٹنے کا حکم دیا گیا تھا۔

مقتول مشعل تمو شامی حزب اختلاف کے اس وقت بڑے گروپ شامی قومی کونسل (ایس این سی) کے رکن تھے اورانھیں ان کے قتل سے کچھ عرصہ قبل ہی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔وہ ساڑھے تین سال تک حکومت کی مخالفت کی پاداش میں جیل میں قید رہے تھے۔

ان کے قتل کی شام اور بیرون ممالک میں شدید مذمت کی گئی تھی۔ ان کے جنازے میں پچاس ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی لیکن شامی فورسز نے ان کے جنازے کے جلوس پر بھی فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔

شامی قومی ریلی کے سیاسی بیورو کے سربراہ ایمان الدین الرشید نے العربیہ کو بتایا کہ مشعل تمو پراس سے قبل بھی دو قاتلانہ حملے کیے گئے تھے لیکن ان میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ان واقعات کے بعد ان کی جماعت ان پر شام سے چلے جانے پر زور دیتی رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے خود بھی مشعل تمو سے جمعرات 6 اکتوبر2011ء کو بات چیت کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ ملک سے چلے جائیں۔ اس کے جواب میں تمو نے یہ کہا تھا کہ وہ جمعہ کو حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کریں گے اور اس کے بعد ملک سے کہیں اور چلے جائیں گے۔

ایمان الرشید نے العربیہ کو مزید بتایا کہ ''انھوں نے جمعہ کی صبح مشعل تمو سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ انھیں بروقت ملک سے نکلنا ہوگا۔انھوں نے میری بات کے جواب میں کہا کہ وہ بروقت چلے جائیں گے۔ٹھیک دوبجے مجھے اطلاع ملی کہ انھیں شہید کردیا گیا ہے''۔

ایک اور دستاویز کرنل صقر منون کی جانب سے صدر بشار الاسد کو بھیجی گئی تھی۔ اس پر ''ٹاپ سیکرٹ'' کی مہر لگی ہوئی تھی اور سکیورٹی وجوہ کی بنا پر اس پر کوئی تاریخ بھی نہیں لکھی تھی۔اس دستاویز سے اس امر کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ مشعل تمو کو شامی صدر کے 22 ستمبر 2011ء کے ایک حکم نامے کے تحت قتل کیا گیا تھا۔

ایک اور خفیہ فائل سے اس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ مشعل تموکو کیوں نشانہ بنایا گیا تھا؟ اس دستاویز سے ایک آپریشن کا پتا چلتا ہے اور اس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ اس سے ترک قیادت شامی بحران کے حوالے سے غیر جانبدار اور تعاون کرنے والی ہو جائے گی۔ ترکی کرد علاحدگی پسندوں سے ایک عرصے سے لڑ رہا ہے اور ایک کرد لیڈر کے قتل کا دمشق کے نقطہ نظر سے انقرہ خیر مقدم کرے گا۔ کم سے کم اس خفیہ دستاویز کی حد تک یہی خیال ظاہر کیا گیا تھا۔ ۔