.

حکومتی عہدیداروں کی بلیک میلنگ پر ایران کا امریکا کو سخت انتباہ

واشنگٹن، تہران میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا اور ایران کے درمیان روایتی مخاصمت کے جلو میں تہران نے اندرونی معاملات میں مداخلت پر واشنگٹن کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا، تہران حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں پر اثر انداز ہو کر ان کے اصولی موقف کو تبدیل کرنے اور عالمی دباؤ میں لانے کے لیے کوشاں ہے۔ امریکا، ایران کے اندر ہی سے ملک کے جوہری پروگرام کے ٘مخالفین پیدا کرنے کے لئے سارا تانہ بانہ بن رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت برائے سراغ رسانی نے ایک بیان کے ذریعے تہران میں امریکی مداخلت پر سخت احتجاج کیا ہے۔ بیان کے مطابق امریکا، تہران حکومت کی صفوں میں دراڑیں ڈال کر جوہری پروگرام میں خلل اندازی کرنا چاہتا ہے۔ امریکی حکومت یہ سازش کر رہی ہے کہ تہران حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں پر اثرانداز ہو کر ایران کی خارجہ پالیسی بالخصوص جوہری پروگرام کے بارے میں قومی اور اصولی موقف میں تبدیلی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

بیان میں امریکی حکومت کی جانب سے ایران میں مداخلت کے الزام کے ساتھ واشنگٹن کے بعض اقدامات کے حوالے بھی دیے گئے ہیں جو ایرانی حکومت میں پھوٹ پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ نیز امریکا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایران میں بدامنی اور انارکی کو ہوا دے رہا ہے۔

ایک طرف ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان شکوک وشبہات کی فضاء پیدا کر کے جوہری پروگرام پر عمل میں تعطل پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور دوسری جانب عوامی حلقوں میں بھی حکومت کے خلاف بے چینی اور بداعتمادی کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کو عوامی مسائل میں الجھا کر اس کی توجہ جوہری پروگرام سے ہٹائی جا سکے۔

فارسی میں جاری اس بیان میں امریکیوں کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ تہران حکومت کو کمزور کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ حکومت کے تمام کل پرزوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اتحاد قائم ہے۔ ایران کو اس طرح کی سازشوں کا سامنا ماضی میں بھی رہا ہے لیکن حکومت نے ہمیشہ ان ریشہ دوانیوں کا قلع قمع کیا۔ آئندہ بھی اس طرح کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے پائیں گی۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت کی طرف سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران کو درپیش حالیہ اقتصادی بحران کے باعث حکومت میں اختلافات کی خبریں بھی عروج پر ہیں۔ ایران اور مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صدر محمود احمدی نژاد کو خود انہی کے قدامت پسند حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

صدر نژاد پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر ملکی پابندیوں سے متاثر ہو گئے ہیں، جس کے بعد انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو یہ مشورہ دیا ہے کہ تہران کو کچھ عرصے کے لیے جوہری پروگرام پر کام روک کر گروپ چھ کی شرائط مان لینی چاہئیں تاکہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالا جاسکے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں میں تخفیف ہو گی اور ملک کسی بڑے معاشی نقصان سے بچ سکتا ہے۔