.

شامی وزیر کا ترکی پر فضائی قزاقی کا الزام

شام نے ترکی سے بجلی کی خریداری بند کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے ٹرانسپورٹ کے وزیر نے ایک مسافر طیارہ زبردستی اتارے جانے پر ترکی پر ''فضائی قزاقی'' کا الزام عاید کیا ہے۔

لبنان کے 'المنار' ٹی وی نے شام کے ٹرانسپورٹ کے وزیر محمد ابراہیم سعید کا بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''انقرہ کے ہوائی اڈے پر شام کا مسافر طیارہ اتارا جانا فضائی قزاقی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ سول ایوی ایشن کے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے''۔

واضح رہے کہ ترک فضائیہ نے بدھ کو شام کا ماسکو سے دمشق جانے والا مسافر طیارہ زبردستی اتار لیا تھا۔ترک حکام نے شُبہ ظاہر کیا ہے کہ اس طیارے میں فوجی آلات لے جائے جارہے تھے اور انھوں نے اس میں لدے ہوئے سامان کو ضبط کر لیا ہے۔

ترکی کے اس اقدام کے ردعمل میں شام نے اس سے بجلی کی خریداری بند کر دی ہے۔شام کے وزیر توانائی طانر یلدیز نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''شام نے ترکی سے ایک ہفتہ قبل ہی بجلی کی خریداری منقطع کر دی تھی''۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر شام کی جانب سے بجلی کی بحالی کے لیے درخواست دی جاتی ہے تو ترکی ایسا کرنے کو تیار ہے۔ واضح رہے کہ ترکی شام کو اس کی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیس فی صد بجلی مہیا کرتا ہے۔

درایں اثناء روس نے ترک حکام سے شام کا مسافر طیارہ اتارے جانے کی وضاحت طلب کی ہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترک حکام نے طیارے میں سوار سترہ روسی شہریوں تک سفارت کاروں کو رسائی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس طیارے کو نو گھنٹے تک انقرہ کے ہوائی اڈے ہر روکے رکھا گیا تھا اور پھر اس کو اس کی منزل مقصود دمشق کی جانب جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ تاہم اس میں لدا ہوا سامان روک لیا گیا تھا۔

روس کے اسلحہ برآمد کرنے والے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ شام کے مسافر طیارے میں کوئی اسلحہ یا فوجی آلات نہیں تھے۔ اس ذریعے کا کہنا ہے کہ اگر شام کو روسی اسلحہ بھیجنے کی ضرورت پیش آئی تو یہ کام کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر کیا جائے گا اور اسے مسافر طیارے کے بجائے مال بردار طیارے میں بھیجا جائے گا۔

قبل ازیں ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے کہا تھا کہ طیارے میں غیر قانونی مال تھا اور اس کو سول ایوی ایشن کے قواعد وضوابط کے تحت رپورٹ کیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔