امریکا قتل پر اکسانے کے الزام میں سعودی طالبعلم کی ضمانتی اپیل مسترد

"جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت ہو سکتی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق زیاد عبید کے مقدمہ کی سماعت گذشتہ منگل کو ریاست میزوری میں خاتون جج جاکلین کوک نے کی۔ اس موقع پر ملزم کے وکیل نے اپنے مؤکل کے حوالے سے دو الگ الگ درخواستیں جمع کرائیں۔ اگرچہ دونوں ملزم کی ضمانت سے متعلق تھیں لیکن عدالت نے اٹارنی جنرل کی مداخلت پر انہیں مسترد کر دیا۔ ایک درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ ایک ملین ڈالر ضمانت کے سابقہ فیصلے کو حتمی قرار دے اور دوسری درخواست میں نئی ضمانت کی اپیل کی گئی تھی۔

وکیل کی جانب سے درخواستوں کی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل کھڑے ہوئے اور کہاکہ ضمانت پر رہائی کی صورت میں ملزم ہمارے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ ملزم سعودی سفارت خانے کے ذریعے واپس سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لہذا عدالت اس کی ضمانت کی درخواستیں منظور نہ کرے۔ اس پرعدالت نے اٹارنی جنرل کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

مقدمہ کی سماعت محض دس منٹ تک ہوئی، اس دوران زیادہ گفتگو سرکاری وکیل اور اٹارنی جنرل نے کی، ملزم اور اس کے وکیل کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ مقدمہ کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زیاد کے وکیل نے کہا کہ میرا مؤکل بے گناہ ہے اور جان بوجھ کرایک دوسرے شخص کے مقدمہ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں