.

امریکا قتل پر اکسانے کے الزام میں سعودی طالبعلم کی ضمانتی اپیل مسترد

"جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت ہو سکتی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں قتل پر اکسانے کے الزام میں زیر حراست سعودی طالب علم زیاد عبید کی حالیہ پیشی پر زیاد کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی ہے۔ زیاد کے وکیل کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے خدشہ ظاہر کیا کہ ضمانت پر رہائی ملنے پر ملزم ملک سے فرار ہو سکتا ہے۔



خیال رہے کہ امریکی ریاستی میزوری کے شہر وارنبرگ کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم سعودی طالب علم کو پچھلے سال 05 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ عبید پر الزام ہے کہ اس نے ایک دوسرے ملزم ریگی نالڈ اسٹنلیٹری جونیوز کے ساتھ مل کر اپنے ایک ساتھی ولیم پلین وائیٹو ورتھ کو قتل کرا دیا تھا۔ قتل کی اس مبینہ واردات میں زیاد عبید نے قاتل کو رقم فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی۔



پولیس کا کہنا ہے کہ ستائیس سالہ جونیوز نے اعتراف کیا ہے کہ ولیم کو قتل تو اسی نے کیا تھا لیکن اس اقدام پر اسے زیادہ عبید نے اکسایا تھا اور کہا تھا کہ تمہیں اس کے بدلے میں رقم فراہم کیا جائے گی۔ زیادہ اور جونیوز دونوں ایک ہی فلیٹ میں مقیم تھے اور جونیوز مقتول کے کیفی ٹیریا میں اس کےساتھ ملازمت کرتا تھا۔



منگل کے روز عدالت میں پیشی کے موقع پر تئیس سالہ سعودی ملزم زیادہ عبید کے امریکی وکیل جون ازجوڈ بھی موجود تھے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی رہائی کے لیے اس کی ایک ملین ڈالر ضمانت کے ایک سابقہ فیصلے کو بحال کیا جائے یا اس کی نئی ضمانت کے بارے میں کوئی نیا فیصلہ دیا جائے۔ تاہم عدالت نے وکیل کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔



خیال رہے کہ امریکا میں قتل، اقدام قتل یا اس طرح کی کسی سنگین واردات پر اکسانے کی سزا عمر قید یا موت ہوتی ہے۔ جرم ثابت ہونےکی صورت میں زیاد کو بھی عمر قید یا موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل کے موقف پر ضمانت کی درخواست مسترد

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق زیاد عبید کے مقدمہ کی سماعت گذشتہ منگل کو ریاست میزوری میں خاتون جج جاکلین کوک نے کی۔ اس موقع پر ملزم کے وکیل نے اپنے مؤکل کے حوالے سے دو الگ الگ درخواستیں جمع کرائیں۔ اگرچہ دونوں ملزم کی ضمانت سے متعلق تھیں لیکن عدالت نے اٹارنی جنرل کی مداخلت پر انہیں مسترد کر دیا۔ ایک درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ ایک ملین ڈالر ضمانت کے سابقہ فیصلے کو حتمی قرار دے اور دوسری درخواست میں نئی ضمانت کی اپیل کی گئی تھی۔

وکیل کی جانب سے درخواستوں کی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل کھڑے ہوئے اور کہاکہ ضمانت پر رہائی کی صورت میں ملزم ہمارے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ ملزم سعودی سفارت خانے کے ذریعے واپس سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لہذا عدالت اس کی ضمانت کی درخواستیں منظور نہ کرے۔ اس پرعدالت نے اٹارنی جنرل کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

مقدمہ کی سماعت محض دس منٹ تک ہوئی، اس دوران زیادہ گفتگو سرکاری وکیل اور اٹارنی جنرل نے کی، ملزم اور اس کے وکیل کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ مقدمہ کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زیاد کے وکیل نے کہا کہ میرا مؤکل بے گناہ ہے اور جان بوجھ کرایک دوسرے شخص کے مقدمہ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔