.

بحران زدہ یورپی یونین کے لیے نوبل امن انعام کا اعلان

سوشل میڈیا پر نوبل انعام کمیٹی کے فیصلے پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ناروے کی نوبل امن کمیٹی نے بحران زدہ یورپی یونین کو یورپ میں امن اور جمہوریت کے فروغ کے لیے اس کی کوششوں کے اعتراف میں اس سال کا نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

ناروے کی نوبل کمیٹی کے چئیرمین تھوربیورن جاگلینڈ نے جمعہ کو غیر متوقع طور پر یورپی یونین کے لیے نوبل امن انعام کا اعلان کیا ہے اور اس کی توجیہہ یہ بیان کی ہے کہ ''تنظیم نے گذشتہ چھے عشروں کے دوران تقسیم کا شکار یورپ کو جنگ کے براعظم سے امن کا براعظم بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کوششوں کے اعتراف میں اسے اس انعام سے نوازا جا رہا ہے''۔

انھوں نے اپنے بیان میں تنظیم کے دو بڑے رکن ممالک جرمنی اور فرانس کے درمیان ماضی میں لڑی گئی تین جنگوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ''ان جنگوں کے بارے میں آج سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ باہمی اعتماد کے ذریعے دیرینہ دشمنوں کو قریبی شراکت داروں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے''۔

یادرہے کہ یورپی یونین کا قیام دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے قریباً پانچ سال کے بعد سن انیس سو پچاس کی دہائی کے آغاز میں عمل میں لایا گیا تھا۔اس وقت اس تنظیم کے ستائیس رکن ممالک ہیں اور ان کی آبادی قریباً پچاس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔تنظیم کے رکن ممالک نے گزرے برسوں میں ایک دوسرے کےساتھ معیشت سے لے کر ثقافت اور سیاست کے شعبوں تک باہمی تعاون کو فروغ دیا ہے لیکن اس وقت اس کے متعدد رکن ممالک کو قرضوں کے بدترین بحران کا سامنا ہے اور اس وجہ سے تنظیم کے دوسرے ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں۔

یورپی یونین کے رکن ممالک میں جاری معاشی بحران کی وجہ سے جنوب اور شمال کی تقسیم بھی بڑھی ہے،بے روزگاری کی شرح آسمان سے باتیں کررہی ہے اور اس بحران سے تنظیم کے سترہ رکن ممالک کی مشترکہ کرنسی یورو کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

ردعمل

سوشل میڈیا پر نوبل امن کمیٹی کی جانب سے یورپی یونین کے لیے امن نوبل انعام کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔اگرچہ اس کے حق میں بھی رائے کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن زیادہ تر نے اس تنظیم کو یہ باوقار انعام دینے کی مخالفت کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ موجودہ عالمی صورت حال کے تناظر میں اس تنظیم کی کون سی خدمات کے اعتراف میں اس کو اس انعام کا حق دار سمجھا گیا ہے؟

مصر سے تعلق رکھنے والے راوہ بدراوی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ تویٹر پر لکھا ہے:''ملالہ اور اس کے ساتھیوں ،بہادر کمیونٹی ورکروں اور ضمیر کے قیدیوں کو بھُلا کر یورپی یونین کو نوبل امن انعام دیا جارہا ہے''۔چودہ سالہ پاکستانی لڑکی ملالہ اسی ہفتے ملک کے شمال مغربی علاقے وادی سوات میں طالبان جنگجوؤں کے حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھی۔وہ علاقے میں تعلیم اور امن کے فروغ کے لیے کام کررہی تھی۔اس پر قاتلانہ حملے کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی ہے۔

اور تو اور نیدرلینڈز کے نسل پرست،انتہا پسند سیاست دان گیرٹ وائلڈر نے بھی یورپی یونین کو نوبل امن انعام دینے کی مخالفت کی ہے۔یونان سے انان نامی شخص نے ٹویٹر پر لکھا کہ ''پرتگال ،اسپین ،یونان ،اٹلی اور فرانس میں حکومتوں کے سخت معاشی اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ قومیت پرستی، نسل پرستی، بے روزگاری اور غربت عروج پر ہے اور یورپی یونین کو نوبل امن انعام کا حق دار سمجھا گیا ہے۔

ٹویٹر پر بعض لکھاریوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ نوبل انعام کے ساتھ ملنے والی اسّی لاکھ سویڈش کرونر (بارہ لاکھ ڈالرز) کی رقم کون وصول کرے گا؟ایک صاحب نے لکھا ہے کہ اگر یہ رقم یورپی یونین کو دی جاتی ہے تو وہ اس کو اسپین کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ایک اور صاحب نے ایک قدم آگے بڑھ کر مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ''کیا مجھے اس رقم میں سے میرا حصہ مل سکتا ہے کیونکہ میں اس وقت دو یورپی ممالک کا شہری ہوں''۔