بحران زدہ یورپی یونین کے لیے نوبل امن انعام کا اعلان

سوشل میڈیا پر نوبل انعام کمیٹی کے فیصلے پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سوشل میڈیا پر نوبل امن کمیٹی کی جانب سے یورپی یونین کے لیے امن نوبل انعام کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔اگرچہ اس کے حق میں بھی رائے کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن زیادہ تر نے اس تنظیم کو یہ باوقار انعام دینے کی مخالفت کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ موجودہ عالمی صورت حال کے تناظر میں اس تنظیم کی کون سی خدمات کے اعتراف میں اس کو اس انعام کا حق دار سمجھا گیا ہے؟

مصر سے تعلق رکھنے والے راوہ بدراوی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ تویٹر پر لکھا ہے:''ملالہ اور اس کے ساتھیوں ،بہادر کمیونٹی ورکروں اور ضمیر کے قیدیوں کو بھُلا کر یورپی یونین کو نوبل امن انعام دیا جارہا ہے''۔چودہ سالہ پاکستانی لڑکی ملالہ اسی ہفتے ملک کے شمال مغربی علاقے وادی سوات میں طالبان جنگجوؤں کے حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھی۔وہ علاقے میں تعلیم اور امن کے فروغ کے لیے کام کررہی تھی۔اس پر قاتلانہ حملے کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی ہے۔

اور تو اور نیدرلینڈز کے نسل پرست،انتہا پسند سیاست دان گیرٹ وائلڈر نے بھی یورپی یونین کو نوبل امن انعام دینے کی مخالفت کی ہے۔یونان سے انان نامی شخص نے ٹویٹر پر لکھا کہ ''پرتگال ،اسپین ،یونان ،اٹلی اور فرانس میں حکومتوں کے سخت معاشی اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ قومیت پرستی، نسل پرستی، بے روزگاری اور غربت عروج پر ہے اور یورپی یونین کو نوبل امن انعام کا حق دار سمجھا گیا ہے۔

ٹویٹر پر بعض لکھاریوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ نوبل انعام کے ساتھ ملنے والی اسّی لاکھ سویڈش کرونر (بارہ لاکھ ڈالرز) کی رقم کون وصول کرے گا؟ایک صاحب نے لکھا ہے کہ اگر یہ رقم یورپی یونین کو دی جاتی ہے تو وہ اس کو اسپین کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ایک اور صاحب نے ایک قدم آگے بڑھ کر مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ''کیا مجھے اس رقم میں سے میرا حصہ مل سکتا ہے کیونکہ میں اس وقت دو یورپی ممالک کا شہری ہوں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں