.

تیونس کے نئے آئین میں توہین مذہب کی شق نہیں ہوگیاسپیکر

اظہاررائے کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کی قومی دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ ملک کے نئے آئین میں حکمراں اسلامی جماعت کی تجویز کردہ مقدس شخصیات کی توہین سے متعلق متنازعہ شق کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

مصطفیٰ بن جعفر نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ''مقدس شخصیات کی توہین سے متعلق شق شامل کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ مقدس کی تعریف کرنا بہت مشکل ہے''۔ان کا کہنا ہے کہ اس کو فوجداری جرم قرار نہیں دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ النہضہ اور دوسری اسلامی جماعتوں نے مذہبی اقدار پر حملوں کو جولائی میں فوجداری جرم قرار دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے ردعمل میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے گروپوں نے اپنے اس مزعومہ خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس سے آزادیٔ اظہار پر نئی قدغنیں لگ جائیں گی۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ تین جماعتی حکمران اتحاد کی سربراہ النہضہ پارٹی توہین شخصیات سے متعلق شق کو ختم کرنے پر آمادہ ہوجائے گی۔النہضہ ابتدائی طور پر نئے آئین اور ضابطہ فوجداری میں اپنی اس مجوزہ شق کو شامل کرانا چاہتی تھی۔اس مجوزہ قانون کے تحت مقدس شخصیات کی توہین کرنے والوں کے لیے جیل کی سزا تجویز کی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ امریکا میں بنی شرانگیز فلم کے خلاف دنیا بھر کی طرح تیونس میں احتجاجی مظاہروں کے بعد النہضہ نے مقدس شخصیات پر توہین آمیز حملوں کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی قانون بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

لیکن اب اس اعتدال پسند مذہبی جماعت کی اس تجویز کو اظہاررائے اور پریس کی آزادی کے نام پر مسترد کیا جارہا ہے۔تیونس کی ایک سیکولر جماعت سے تعلق رکھنے والے اسپیکر کا کہنا تھا کہ اظہار رائے سابق آمر صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے لیے برپا کردہ انقلاب کی ایک اہم کامیابی اور دین ہے۔اس لیے اس کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔