.

سفارتی تعطل ختم، لیبیا میں نئے قائم مقام امریکی سفیر کا تقرر

بنغازی قونصل خانے پر حملے کے ایک ماہ بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا نے لیبیا کے مرکزی شہر بنغازی میں قونصل خانے پر گزشتہ ماہ حملے میں اپنے سفیر کریس اسٹیفنز سمیت چار اہلکاروں کے قتل کے بعد نئے قائم مقام سفیرکا تقرر کیا ہے۔ گیارہ ستمبر کو بنغازی میں امریکا میں بننے والی گستاخانہ فلم کے ردعمل میں لیبیا میں پھوٹنے والے ہنگاموں میں امریکی قونصل خانے پر مشتعل مظاہرین نے حملہ کر دیا تھا جس میں امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔



امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ویکٹوریا نولینڈ نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول سفیر کی جگہ عارضی طور پر ایک دوسرے سفارت کار لورانس پوپ کو قائم مقام سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ کی سفارتی سرگرمیوں کے تعطل کے بعد واشنگٹن نے یہ مناسب سمجھا ہے کہ لیبیا میں نوزائدہ جمہوریت کے استحکام کے لیے لیبی قوم کی مدد کا وعدہ ایفاء کیا جائے، اس مقصد کے لیے نئے قائم مقام سفیر کا تقرر عمل میں لایا کیا گیا ہے۔



یاد رہے کہ نائن الیون کی گیارہویں برسی کے موقع پر امریکا میں ریلیز کی گئی گستاخانہ فلم پر پورے عالم اسلام میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کیے گئے تھے۔ سب سے تباہ کن حملہ لیبیا کے شہر بنغازی میں امریکی قونصلیٹ پر ہوا جس میں امریکی سفیر اور قونصل خانے کے تین دیگر عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکا نے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔ لیبیا کی عبوری حکومت نے بھی قونصل خانے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی سے تعبیر کیا تھا۔ واقعے کے بعد طرابلس نے پرتشدد کارروائی کے الزام میں کئی افراد کو حراست میں بھی لے رکھا ہے۔