.

نیم عریاں تصاویر کے بعد فرانسیسی خاتون اول نئے اسکینڈل کی زد میں

نئی کتاب نے صدرارتی محل کی چولیں ہلا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی خاتون اول والیری ٹرائوال دس برس قبل صدر فرانسو اولاند اور نیکولا سارکوزی کی کابنیہ کے ایک وزیر کی 'مشترکہ دوست' رہ چکی ہیں۔



اس امر کا انکشاف فرانس میں چھپنے والی ایک حالیہ کتاب میں کیا گیا ہے۔ 'باغی' کے عنوان سے یہ کتاب "ٹی وی 1" اور "ایل سی ای" سے وابستہ صحافی کرسٹوف جیکوبوژان اور سرکاری ٹی وی "فرانس 2" کی پولیٹیکل لیبارٹری کی اعلی عہدیدار الیکس بوکیاگیٹ نے مشترکہ تالیف ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کتاب والیری کی زندگی متنازعہ ادوار کا پردہ چاک کرتی ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد خود خاتون اول بھی سرپیٹ کر رہ گئیں اورانہوں نے اپنی ذاتی زندگی کی تفصیلات منکشف کرنے کی پاداش میں کتاب کے مؤلفین کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ امسال اگست میں انہوں نے فرانسیسی میگزین "وی ایس ڈی" پر مقدمہ دائر کیا، کیونکہ جریدے نے والیری اور ان کے شوہر اولاند کی ساحل سمندر پر پیراکی کے لباس کی تصاویر شائع کیں۔ عدالت نے میگزین کو تصاویر شائع کرنے پر 2000 یورو ہرجانہ کیا۔ والیری نے گزشتہ ماہ تین جرائد 'بیبلیک'، 'وسا' اور 'کلوزر' کے خلاف بھی مذکورہ تصاویر شائع کرنے پر ہرجانے کا دعوی دائر کیا۔

'باغی' کتاب کے مؤلفین کے خلاف دعوی کتاب میں لگائے اس الزام کی پاداش میں دائر کیا جائے گا کہ خاتون اول ماضی میں مسٹر اولاند اور سابق فرانسیسی وزیر پیٹرک ڈیوڈجان کی 'مشترکہ دوست' رہی ہیں۔ ڈیوڈجان، فرانس میں دائیں بازو کی حکومت مخالف جماعت 'یونین فار پاپولر موومنٹ' کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں اور نیکولا سارکوزی کے دور میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔