.

امریکا میں ڈمی ائر کریش، انسانی زندگی کے بچاؤ کا منفرد تجربہ

عقبی نشتوں پر بیٹھے مسافروں کے بچنے کے زیادہ امکانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مسافر طیاروں کے حادثات میں انسانی زندگی کی حفاظت تقریباً ناممکن خیال کی جاتی ہے لیکن ہر ملک کی یہ کوشش ہے کہ وہ فضائی حادثوں کی تعداد میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ ان حادثات میں ہونے والے جانی نقصانات کو بھی کم سے کم کرے۔



فضائی حادثات میں مسافروں کے تحفظ کے لیے چار سال قبل امریکا میں سیکیورٹی حکام اور دستاویزی ٹیلی ویژن چینلوں کے نمائندے سر جوڑ کر بیٹھے تاکہ کوئی ایسا تجربہ کیا جا سکے جس کےذریعے انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کرنے میں مدد مل سکے۔ چنانچہ اس سلسلے میں تجرباتی طور پر کسی(مسافروں سے خالی) طیارے کو فضاء میں تباہ کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی۔ بوجوہ اس تجویز پر عمل درآمد میں چار سال کی تاخیر تو ہوئی مگر آخر کار خالی مسافر طیارے'بوئنگ 727' کو فضاء میں تباہ کرنے کا ایک آزمائشی تجربہ کیا گیا ہے۔



اس مسافر طیارے کو صحرائے میکسیکو میں آبادی سے دور فضاء میں ایک دوسرے طیارے کی مدد تباہ کیا گیا۔ ہوائی جہاز میں زندہ مسافروں کے بجائے تجربے کے لیے پلاسٹک کی گڑیاں رکھی گئی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تجرباتی حادثے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضائی حادثے کی صورت میں طیارے کی عقبی سیٹوں پر بیٹھے لوگوں کے زندہ بچ جانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، درمیان والی نشستوں پر سفر کرنے والے زیادہ زخمی ہوں گے اور اگلی نشستوں اور کاک پٹ میں موجود عملے کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔



دستاویزی ٹیلی ویژن چینلز اور امریکی حکام کے درمیان طے پایا تھا کہ یہ تجربہ امریکا کے کسی شہری علاقے میں کیا جائے گا تاہم سیکیورٹی سے متعلق اداروں نے اس کے بعض پُرخطر مُضمرات ظاہر کیے تھے جس کے بعد صحرائے میکسیکو میں یہ تجربہ کیا گیا۔ ہوائی جہاز میں سوار عملے نے پیرا شوٹس کے ذریعے پہلے ہی چھلانگیں لگا دیں۔ کچھ لمحات کے بعد اسی طیارے کے پیچھے آنے والے دوسرے طیارے کے ذریعے اسے ریمورٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔