.

ترک فضائیہ کی شام کے اندر کئی اہداف پر شدید گولہ باری

انقرہ اتارے گئے مسافر طیارے میں راڈار لوڈ تھے: ماسکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی جیش الحر کے مطابق ترکی کے جنگی جہازوں نے شام کے اندر متعدد اہداف کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں اسد نواز فوج کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



ترک حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ان کے لڑاکا جہاز نے مشرقی شہر دیار بکر سے اڑان بھری، جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر شامی فوج کے ہیلی کاپٹر بھی موجود تھے۔



ترک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترک لڑاکا جہازوں نے اس وقت شامی علاقے میں بمباری کی جب اسمرین قصبے پر شامی فوج کے جنگی ہیلی کاپٹروں نے باغیوں اور مظاہرین پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ باغیوں نے لڑائی کے دوران اسمیرین قصبے میں شامی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا۔



خیال رہے کہ شام اور ترکی کے درمیان 900 کلومیٹر پر محیط مشترکہ بین الاقوامی سرحد ہے۔ ترکی فوجیں گزشتہ کئی ماہ سے شام کے اندر گھس کر حملے کر رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں بدھ کے روز شام کے مسافر جہاز کو انقرہ میں زبردستی اتارے جانے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ ترکی کا دعویٰ تھا کہ مسافر جہاز میں فوجی ساز و سامان لایا جا رہا تھا۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ مسافر طیارے میں روس سے فوجی سازو سامان اور اسلحہ شام منتقل کیا جا رہا تھا، جسے تلاشی کے لیے ترکی اتارا گیا۔



درایں اثناء روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے کہا ہے کہ انقرہ میں اتارے گئے مسافر جہاز میں راڈار لوڈ تھے۔انہوں نے کہا کہ راڈار ممنوعہ اسلحہ کے زمرے میں نہیں آتا۔ شام کو راڈارز کی فراہمی ایک قانونی اقدام تھا۔ ترکی نے ہوائی جہاز اتار کر نا انصافی کی۔ روسی ٹیلی ویژن 'این ٹی وی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر لافروف کا کہنا تھا کہ ماسکو سے دمشق جانے والے مسافر جہاز میں راڈار میں استعمال ہونے والا الیکٹریکل پرزے تھے جسے کسی صورت میں غیر قانونی نہیں قرار دیا جا سکتا۔