.

افغان صدر کی انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں تعاون کی اپیل

حامد کرزئی کا پاکستانی سیاست دانوں کے نام خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے سرکردہ سیاسی اور مذہبی لیڈروں کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے اور ان پر زوردیا ہے کہ وہ دونوں ممالک میں انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد دیں۔

کابل میں افغان صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چودہ سالہ پاکستانی لڑکی پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

حامد کرزئی نے خط میں لکھا کہ ''ان کے نزدیک ملالہ پر فائرنگ دراصل ایک افغان لڑکی پر حملہ ہے۔یہ ایک قابل افسوس واقعہ ہے اور اس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس واقعہ سے متاثر ہونے والوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔افغانوں اور پاکستانیوں دونوں کو دہشت گردی اورانتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پختہ عزم کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے بچوں کو جبر وتشدد سے بچایا جاسکے''۔

افغان صدر نے یہ خط پاکستان کے دس سے زیادہ ارباب اقتدار وسیاست کو بھیجا ہے۔ان میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری ،وزیراعظم راجا پرویز اشرف،مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف ، جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد ،مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان شامل ہیں۔

چودہ سالہ ملالہ یوسف زئی پر گذشتہ منگل کو مینگورہ(سوات) میں اسکول سے واپسی کے وقت مسلح افراد نے قاتلانہ حملہ کیا تھا اور ان کے سر اور گردن میں گولی ماردی تھی۔اس قاتلانہ حملے میں دو اور بچیاں بھی شدید زخمی ہوگئی تھیں۔اندرون اور بیرون ملک سے اس نڈر طالبہ پر حملے کی مذمت کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ امریکی صدر براک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سمیت مختلف عالمی لیڈروں نے دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔

وہ اس وقت راول پنڈی میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) میں زیرعلاج ہیں، جہاں انھیں دو دن تک وینٹی لیٹر( مصنوعی تنفس) پر رکھا گیا ہے۔اتوار کو آزمائشی طور پر کچھ دیر کے لیے وینٹی لیٹر کو ہٹایا گیا اور یہ تجربہ کامیاب رہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ملالہ کی حالت قدرے تسلی بخش ہے اور صحت بتدریج بہتر ہورہی ہے۔تاہم اسے علاج کے لیے باہر بھجوانے یا نہ بھجوانے کا فیصلہ سوموار کو کیا جائے گا۔