.

موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز ناکام قاتلانہ حملے میں زخمی

سرکاری میڈیا پر حملہ 'فرینڈلی فائر' قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز ایک ناکام قاتلانہ حملے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق صدر پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ دارالحکومت نواکشوط کے مغرب میں واقع اپنی زرعی فارمز سے واپس گھر آ رہے تھے۔

نواکشوط حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے صدر کو دیکھتے ہی ان پر گولی چلا دی تھی۔ ایک گولی ان کی گردن پر لگی، تاہم زخم معمولی تھا۔ گولی کو فوری سرجری کے ذریعے نکال لیا گیا۔ صدر اب بالکل ٹھیک ہیں۔

دوسری جانب موریتانیہ کے سرکاری ریڈیو نے صدر پر حملے کے بارے میں کچھ مختلف رپورٹ دی ہے۔ ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق صدر پر قاتلانہ حملہ نہیں ہوا البتہ ایک فوجی چیک پوسٹ کے قریب سے گذرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکار کی بندوق سے غلطی سے گولی چل گئی تھی۔

ریڈیو رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ قاتلانہ حملہ نہیں بلکہ غلطی سے چلنے والی گولی تھی۔ العربیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کو اپنی کار سے نکل کر ایک فوجی اسپتال میں زخمی حالت میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔ واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا تھا، تاہم فی الحال کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

موریتانوی صدر محمد ولد عبدالعزیز پر یہ قاتلانہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری جانب مغرب اسلامی میں شدت پسند تنظیم القاعدہ اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ صدر ولد عبدالعزیز نے القاعدہ کےخلاف فیصلہ کن جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مورتیانیہ میں فوجی حکومت کے خاتمے کے لیے عوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ عوام کی مخالفت کے جلو میں حزب مخالف کے کسی شخص نے صدر کو ٹھکانے لگانے کا یہ انتہائی اقدام اٹھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔