.

ایران کا آبنائے ہُرمز میں ماحولیاتی تباہی برپا کرنے کا منصوبہ؟

جرمن جریدے کی کسی ذریعے کا حوالہ دیے بغیر رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ نے ملک پر عاید مغربی پابندیوں کو ہٹانے کے لیے دنیا کی اہم تجارتی آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کو ماحولیاتی تباہی سے دوچار کرنے کا ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

اس بات کا انکشاف ہفت روزہ جرمن جریدے ڈیر سپیگل نے اپنی کسی ذریعے کا حوالہ دیے بغیر مرتب کی گئی رپورٹ میں کیا ہے لیکن اس رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

جرمنی کے اس نیوز میگزین نے لکھا ہے کہ ''پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری نے ''گدلا پانی'' کے کوڈ نام سے یہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کے تحت ایران آبنائے ہُرمز میں آئل ٹینکر کو چٹانوں سے ٹکرا پانی کو آلودہ کر دے گا۔اس طرح وہ وہاں سے گذرنے والے مال بردار یا تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر روک دے گا''۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایران مخالف پڑوسی عرب ریاستوں کو بھی سزا دینا ہے اور سمندری پانی کو صاف کرنے کی کارروائی میں مغربی ممالک کو حصہ لینے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ واقعہ رونما ہونے کے بعد یہ بات بھی ممکن ہے کہ تہران پر عاید کردہ مغربی پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا جائے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ''سمندر میں پیدا ہونے والی آلودگی کے خاتمے کے لیے ایرانی حکام کی فنی مدد درکار ہو گی اور اس مقصد کے لیے عارضی طور پر ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت حال میں بعض ایرانی فرمیں امدادی کارروائیوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور ان میں سے بعض پاسداران انقلاب کی ملکیت ہیں''۔

ڈیر سپیگل نے اپنی اس رپورٹ میں کسی ذریعے کا حوالہ نہیں دیا۔ البتہ اس کا کہنا ہے کہ مغربی انٹیلی جنس سروسز اس منصوبے کا جائزہ لے رہی ہیں اور ایرانی حکام کو اس پر عمل درآمد کے لیے اب صرف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی منظوری درکار ہے۔

یاد رہے کہ مغربی ممالک کی عاید کردہ سخت پابندیوں کے بعد ایرانی معیشت گوناگوں مسائل سے دوچار ہے جبکہ ایرانی بحریہ کے سربراہ علی فداوی اور دوسرے قائدین یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو آبنائے ہُرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گذر کر جانے نہیں دیا جائے گا جبکہ ایران کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل حسن فیروز آبادی نے چند ہفتے قبل کہا تھا کہ اس اہم آبی گذرگاہ کی بندش کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے لیکن اس کے بارے میں حتمی فیصلہ مسلح افواج کے کماندار اعلیٰ کی حیثیت سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کریں گے۔

واضح رہے کہ خلیجی عرب ریاستیں اپنی بحری تجارت کے لیے چار میل چوڑی آبنائے ہُرمز پر انحصار کرتی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے آئیل ٹینکر روزانہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بیرل تیل لے کر گذرتے ہیں اور یہ دنیا کی تیل کی سپلائی کا قریباً پانچواں حصہ ہے۔ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دیتا ہے تو سعودی عرب، ایران، عراق اور کویت سے تیل اور قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات بند ہو جائیں گی۔

آئل ٹینکروں کے علاوہ دنیا کے ایک تہائی مال بردار جہاز تنگ آبی راستے آبنائے ہُرمز سے گذر کر بحرہند میں داخل ہوتے ہیں۔ امریکا نے خلیج میں تیل اور مال بردار جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے پانچویں طیارہ بردار بحری بیڑے کو بحرین میں تعینات کر رکھا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع خبردار کر چکا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔