.

ترکی کی فضائی حدود شام کے تمام طیاروں کے لیے بند

ایران کی شامی بحران کے حل سے متعلق نئی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی نے اپنی فضائی حدود میں تمام شامی طیاروں کی پروازوں پر پابندی عاید کردی ہے جبکہ ایران نے شامی بحران کےحل سے متعلق اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔

ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی طیاروں کے لیے ترکی کی فضائی حدود بند کردی گئی ہیں۔قبل ازیں شام نے ہفتے کے روز اپنی فضائی حدود میں ترک طیاروں کی پروازوں پر پابندی عاید کردی تھی۔

احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ ''ہم نے گذشتہ روز ایک نیا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بارے میں شام کو مطلع کردیا تھا۔ہم نے شام کی سول اور فوجی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں''۔

ترکی اور شام کے درمیان گذشتہ ہفتے،عشرے کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کی فوجوں نے ایک دوسرے کے سرحدی علاقے پر گولہ باری کی تھی اور اس سلسلہ میں اہم واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ ترکی کے دو ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے دس اکتوبر کو شام کے مسافر بردار طیارے کو اس میں اسلحے کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات پر زبردستی انقرہ کے ہوائی اڈے پر اتار لیا تھا۔ اس طیارے کو نو گھنٹے تک انقرہ کے ہوائی اڈے ہر روکے رکھا گیا تھا اور پھر اس کو اس کی تلاشی لینے اوراس میں موجود ممنوعہ سامان کو ضبط کرنے کے بع منزل مقصود دمشق کی جانب جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان نے دوروز پہلے ایک بیان میں کہا تھا انقرہ میں بدھ کی شام اتارے گئے شامی طیارے میں روس سے بشارالاسد حکومت کے لیے بھیجا گیا اسلحہ اور فوجی آلات موجود تھے لیکن روس نے اس کی تردید کی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ طیارے میں کوئی غیر قانونی سامان نہیں تھا۔

البتہ اس نے واضح کیا کہ اس واقعہ سے ترکی اور روس کے درمیان تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے لکسمبرگ کے دورہ کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ ''میں آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی کو بھی روس اور ترکی کے تعلقات کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ایک مستحکم اور ٹھوس بنیاد پر استوار ہیں''۔

ایرانی تجویز

درایں اثناء شامی صدر بشارالاسد کے اتحادی ملک ایران نے شامی بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے سرکاری ٹیلی ویژن العلام سے نشر ہونے والی نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''تہران نے الاخضرالابراہیمی کو شامی بحران کے حل کے لیے غیرسرکاری طور پر ایک مفصل تحریری تجویز پیش کی ہے۔یہ تجویز مصر ،ترکی اور سعودی عرب کو بھی بھیجی گئی ہے''۔

انھوں نے اس تجویز کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ ایران شامی بحران کے حل کے لیے عالمی ایلچی کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔ الاخضرالابراہیمی نے اس ایرانی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔

وہ اتوار کو سعودی عہدے داروں سے ملاقات کے بعد ترکی سے تہران پہنچے تھے۔ انھوں نے علی اکبر صالحی کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ایرانی تجویز میں بعض نئے آئیڈیاز بھی ہیں۔مجھے امید ہے کہ ان تجاویز سے شامی عوام کے مصائب کے خاتمے میں مدد ملے گی''۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کی اس اپیل کا اعادہ کیا کہ ''شامی حکومت جنگ بندی کے لیے پہل کرے اور حزب اختلاف بھی اس پر عمل درآمد کی صورت میں سیز فائر کردے''۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق عالمی ایلچی سوموار کو قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی سے ملاقات کریں گے اور اس کے بعد وہ بغداد کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔

شام میں ہلاکتیں

ادھر شام میں اتوار کو تشدد کے واقعات میں مزید کم سے کم دو سو افراد مارے گئے ہیں۔شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق خانہ جنگی کا شکار ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

شام کے باغی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے حلب اور ادلب میں سرکاری فوج کے مقابلے میں پیش قدمی کی ہے اور انھوں نے شمال مغربی قصبے ارم الشغریٰ میں ایک فوجی چھاؤنی کا محاصرہ کرلیا ہے۔یہ قصبہ حلب اور ترکی کے درمیان مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

باغیوں نے ایک فوجی طیارہ مارگرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے اور اس کی ویڈیو آن لائن پوسٹ کی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ صوبہ ادلب میں ایک محاذ پر لڑائی کے دوران سرکاری فوجیوں کو فضائی سپورٹ مہیا کررہا تھا اور اس دوران اس کو مار گرایا گیا ہے۔