.

شام جانے والے آرمینیا کے طیارے کو ترکی میں اتار لیا گیا

ترکی میں شامی مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی میں شام جانے والے آرمینیا کے ایک طیارے کو سکیورٹی چیک کے لیے اتار لیا گیا ہے۔

ترکی کے ایک نجی ٹی وی چینل 'این ٹی وی' کی اطلاع کے مطابق آرمینیا کے طیارے کو مشرقی صوبے آرزورم میں اتارا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ اس کو کیوں اتارا گیا ہے۔

دوسری جانب آرمینیا کا کہنا ہے کہ شام جانے والے طیارے میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کے لیے انسانی امداد بھیجی جا رہی تھی اور اس کو ترکی کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت وہاں اتارا گیا ہے۔

آرمینیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹگران بالایان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''طیارے میں شام کے لیے امدادی سامان بھیجا جا رہا تھا اور اس کی ترکی کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت لینڈنگ ہوئی ہے''۔

واضح رہے کہ ترکی کے دو ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے اس سے پہلے گذشتہ بدھ کو شام کے ایک مسافر بردار طیارے کو اس میں اسلحے کی موجودگی کی انٹیلی جنس اطلاعات پر زبردستی انقرہ کے ہوائی اڈے پر اتار لیا تھا۔ اس طیارے کو نو گھنٹے تک انقرہ کے ہوائی اڈے ہر روکے رکھا گیا تھا اور پھر اس کو تلاشی لینے اور اس میں موجود ممنوعہ سامان کو ضبط کرنے کے بعد منزل مقصود دمشق کی جانب جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ترکی اور شام کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ترکی نے اتوار کو اپنی فضائی حدود میں تمام شامی طیاروں کی پروازوں پر پابندی عاید کر دی ہے۔ گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کی فوجوں نے ایک دوسرے کے سرحدی علاقے پر گولہ باری کی تھی۔

ترکی میں شامی مہاجرین

درایں اثناء ترکی کے جنوبی صوبوں میں قائم کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ترکی کے محکمہ قدرتی آفات (اے ایف اے ڈی) نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ شام کی سرحد کے ساتھ واقع صوبوں میں قائم دس سے زیادہ کیمپوں میں اس وقت ایک لاکھ تین سو تریسٹھ شامی مہاجرین پناہ گزین ہیں۔

ترکی نے قبل ازیں یہ کہا تھا کہ وہ مزید آنے والے شامیوں کو بھی خوش آمدید کہنے کو تیار ہے۔ تاہم وہ اقوام متحدہ پر یہ زور دے چکا ہے کہ وہ شام کے سرحدی علاقے ہی میں مہاجر کیمپوں کے لیے ایک محفوظ زون قائم کرے۔

ترکی کے یورپ کے لیے وزیر ایجمین بجیس نے ایک جرمن روزنامے ڈائی ویلٹ کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''یورپ کو شام سے گھربار چھوڑ کر ترکی آنے والے لوگوں کے بارے میں اب غور و فکر شروع کر دینا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''یورپ اس وقت مجہولی کیفیت سے دوچار ہے۔ وہاں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے اور وہ مکمل طور پر یورو بحران میں جکڑا ہوا ہے''۔ ان کا اشارہ یورپ میں گذشتہ تین سال سے جاری قرضوں کے بحران کی جانب تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''یورپ کو محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں بے گھر ہونے والے شامیوں کی مدد کرنا ہو گی۔ اب اس کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرے''۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں گذشتہ سال مارچ سے جاری خانہ جنگی سے پچیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک میں عارضی خیمہ بستیوں میں اس وقت تین لاکھ اڑتالیس ہزار رجسٹرڈ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں جبکہ ان ممالک میں پناہ گزین غیر رجسٹر شامی مہاجرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔