شام جانے والے آرمینیا کے طیارے کو ترکی میں اتار لیا گیا

ترکی میں شامی مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

درایں اثناء ترکی کے جنوبی صوبوں میں قائم کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ترکی کے محکمہ قدرتی آفات (اے ایف اے ڈی) نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ شام کی سرحد کے ساتھ واقع صوبوں میں قائم دس سے زیادہ کیمپوں میں اس وقت ایک لاکھ تین سو تریسٹھ شامی مہاجرین پناہ گزین ہیں۔

ترکی نے قبل ازیں یہ کہا تھا کہ وہ مزید آنے والے شامیوں کو بھی خوش آمدید کہنے کو تیار ہے۔ تاہم وہ اقوام متحدہ پر یہ زور دے چکا ہے کہ وہ شام کے سرحدی علاقے ہی میں مہاجر کیمپوں کے لیے ایک محفوظ زون قائم کرے۔

ترکی کے یورپ کے لیے وزیر ایجمین بجیس نے ایک جرمن روزنامے ڈائی ویلٹ کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''یورپ کو شام سے گھربار چھوڑ کر ترکی آنے والے لوگوں کے بارے میں اب غور و فکر شروع کر دینا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''یورپ اس وقت مجہولی کیفیت سے دوچار ہے۔ وہاں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے اور وہ مکمل طور پر یورو بحران میں جکڑا ہوا ہے''۔ ان کا اشارہ یورپ میں گذشتہ تین سال سے جاری قرضوں کے بحران کی جانب تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''یورپ کو محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں بے گھر ہونے والے شامیوں کی مدد کرنا ہو گی۔ اب اس کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرے''۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں گذشتہ سال مارچ سے جاری خانہ جنگی سے پچیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک میں عارضی خیمہ بستیوں میں اس وقت تین لاکھ اڑتالیس ہزار رجسٹرڈ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں جبکہ ان ممالک میں پناہ گزین غیر رجسٹر شامی مہاجرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں