.

شام میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی، الابراہیمی کے ترجمان کی تردید

کسی ملک سے فوج بھیجنےکے لیے کوئی بات نہیں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضر الابراہیمی کے ترجمان نے شام میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی سے متعلق رپورٹ کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

الاخضر الابراہیمی کے ترجمان احمد فوزی نے نیویارک میں العربیہ کے نمائندے طلال الحاج کے نام بھیجی گئی ایک ای میل میں لکھا ہے: ''جیسا کہ آپ جانتے ہیں ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ ایل بی (الاخضر الابراہیمی) شام میں تین ہزار امن فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق منصوبہ تیار کر رہے ہیں اور یورپی یونین کے دستوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا لیکن یہ رپورٹ بالکل جعلی ہے''۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق الاخضر الابراہیمی مشن میں فوج کی تعیناتی کے لیے ممالک کی تلاش میں ہیں۔ خاص طور وہ ان ممالک سے بات کر رہے ہیں جن کی فوج اس وقت لبنان اور اسرائیل کے درمیان واقع سرحد پر اقوام متحدہ کے مشن یونیفل میں تعینات ہے۔

ٹیلی گراف نے لکھا کہ برطانوی اور امریکی فوج کی اس مشن میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ان کی فوج پہلے ہی عراق اور افغانستان میں بروئے کار ہے۔ اس کے علاوہ شام میں حزب اختلاف کی فورسز میں اسلامی جنگجو بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اس وجہ سے امریکا اور برطانیہ شام میں اپنی فوج نہیں بھیجیں گے۔

لیکن ترجمان احمد فوزی کو اس رپورٹ کو مکمل طور پر جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یونیفل کے لیے جن ممالک نے اپنے دستے بھیجے ہیں، الاخضر الابراہیمی نے ہرگز بھی ان سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ البتہ ترجمان نے لکھا ہے کہ الاخضر الابراہیمی نے اقوام متحدہ کے امن مشن سے ضرور شام کے لیے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔