.

لیبیا قذافی مخالف علی زیدان نئے وزیر اعظم منتخب

اسمبلی کے 93 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کی قومی اسمبلی (جنرل نیشنل کانگریس) نے سابق مقتول صدر معمر قذافی کے ایک دیرینہ حریف علی زیدان کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا ہے۔

لیبیا کی قومی اسمبلی کے صدر محمد المقریف نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں بتایا ہے کہ علی زیدان کو وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد دو ہفتے میں اپنی کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی گئی ہے۔

لیبیا کی منتخب دو سو ارکان پر مشتمل اسمبلی میں رائے شماری کے وقت ترانوے ارکان نے علی زیدان کے حق میں ووٹ دیا اور ان کے مخالف امیدوار مقامی حکومت کے وزیر محمد الحریری نے پچاسی ووٹ حاصل کیے۔ لیبیا کے سابق وزیر اعظم مصطفیٰ ابو شقور کو گذشتہ ہفتے برطرف کر دیا گیا تھا۔

علی زیدان سابق کیرئیر سفارت کار رہے تھے لیکن انھوں نے 1980ء میں سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کا طوق ملازمت اتار پھینکا تھا۔ وہ اس وقت بھارت میں لیبیا کے سفارت خانے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ منحرف ہونے کے بعد وہ تین عشرے تک جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے تھے۔

وہ ماضی میں حزب اختلاف کی جماعت قومی محاذ آزادی لیبیا کے رکن رہے تھے۔ یہ جماعت 1981ء میں قذافی مخالفین نے بیرون ملک قائم کی تھی۔علی زیدان اس کے بعد جنیوا چلے گئے تھے جہاں وہ لیبیا میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہے تھے۔