.

صنعاء میں مسلح نقاب پوشوں کی فائرنگ، عراقی جنرل ہلاک

جنرل خالد الھاشمی یمنی وزارت دفاع کے مشیر تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں نامعلوم مسلح نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے عراقی فوج کے جنرل خالد الھاشمی ہلاک ہو گئے۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق مقتول جنرل یمنی وزارت دفاع میں مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

میجر جنرل خالد الھاشمی کے قتل سے چندے قبل نامعلوم حملہ آوروں نے صنعاء ملٹری پولیس کے میجر جنرل احمد مجیدیع کی رہائش گاہ پر بھی دستی بموں سے حملہ کیا تھا تاہم وہ محفوظ رہے۔ جنرل مجیدیع نے وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں بتایا کہ رات گئے نامعلوم حملہ آوروں نے پہلے ان کے گھر پر دستی بموں سے حملہ اور بعد میں فائرنگ کی۔

فائرنگ کی زد میں آ کر ایک ٹیکسی ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کے بعد حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے تاہم کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ کسی تنظیم نے ابتک حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔



دوسری جانب جنوبی یمن میں سیکیورٹی حکام نے دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی ناکام بناتے ہوئے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم القاعدہ نے سرکاری تنصیبات پر حملے کے لیے بارود سے بھری ایک کار تیار کی۔ تاہم حکام نے حملے سے قبل اسے عدن کی ریمی کالونی میں قبضے میں لے لیا۔