.

یورپی یونین ایران کی تیل اور گیس کی صنعت پر نئی پابندیاں عاید

ایران نے نئی پابندیوں کو غیر انسانی قرار دے کر مذمت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یورپی یونین کی حکومتوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر اس کی تیل اور گیس کی صنعتوں سے وابستہ سرکاری کمپنیوں اور مرکزی بنک پر نئی پابندیاں عاید کر دی ہیں جبکہ ایران نے ان پابندیوں کو غیر انسانی قرار دے کر ان کی مذمت کردی ہے۔

یورپی یونین کے سرکاری جرنل میں ایران کی پابندیوں کی زد میں آنے والی تیس سے زیادہ کمپنیوں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ان کمپنیوں کے یورپ میں اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں۔ ان میں ایران کی قومی تیل کمپنی بھی شامل ہے جو دنیا میں تیل برآمد کرنے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

امریکا نے ایران کی قومی تیل کمپنی (این آئی او سی) پر گذشتہ ماہ پابندیاں عاید کر دی تھیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کا راستہ روکنا ہے۔

یورپی یونین کی حکومتوں نے سوموار کو ایران کے صنعت ،بنک کاری اور توانائی کے شعبوں میں نئی پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔منگل کو یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں این آئی او سی کے ذیلی ادارے نیشنل ایرانی گیس کمپنی ،تیل کو صاف کرنے والی اور تقسیم کار کمپنی ،ٹینکروں کی صنعت کی نگران سرکاری کمپنی اور متعدد بنک شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران نے ان پابندیوں کو غیر انسانی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے عام آبادی کو ہدف بنایا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمن پرست نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین اور امریکا کی ایران پر عاید کردہ پابندیاں غیر منطقی ،غیر قانونی اور غیر انسانی ہیں۔ انھوں نے سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے بیان میں مغرب پر الزام عاید کیا کہ وہ ایران کے جوہری تنازعے کے معاملے پر اس پر مزید دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

چین نے ایران پر یورپی یونین کی جانب سے عاید کردہ نئی پابندیوں پر تنقید کی ہے اور ایک مرتبہ پھر ایران کے جوہری تنازعے کو طے کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگ لئی نے بیجنگ میں نیوز بریفنگ میں کہا کہ ''ایران پر عاید کردہ یک طرفہ پابندیوں سے اس کے جوہری تنازعے کو حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے صورت حال اور بھی پیچیدہ ہو جائے گی۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ تمام متعلقہ فریق لچک کا مظاہرہ کریں گے اور جلد سے جلد مذاکرات کے نئے دور کا آغاز کریں گے''۔