.

العربیہ کے برجستہ اور دلیرانہ ٹی وی شو کی مقبولیت میں اضافہ

داؤد الشریان ناظرین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
معروف سعودی میزبان اور صحافی داؤد الشریان اپنے دلیرانہ ٹاک شو ''الثامنہ مع داؤد'' کے ذریعے ناظرین کا اعتماد اور دلچسپی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔یہ پروگرام سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق رات آٹھ بجے پیش کیا جاتا ہے۔

یہ سعودی عرب میں اپنی نوعیت کا پہلا ٹاک شو ہے جس میں روزمرہ سیاسی ،سماجی اور اقتصادی موضوعات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔داؤدالشریان اس سے پہلے ایم بی سی ایف ایم ریڈیو پر ''الثانیہ'' کے نام سے پروگرام کررہے تھے اور اس سے انھیں بڑی مقبولیت ملی تھی۔اس پروگرام میں بھی روزمرہ کے سیاسی مسائل وموضوعات پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا اور سامعین ٹیلی فون کالز کے ذریعے اس میں شریک مہمانوں سے تبادلہ خِیال کرسکتے تھے۔

داؤد الشریان اپنے مہمانوں کے ساتھ بڑے بھرپور اور کھلےانداز میں تبادلہ خِیال کے لیے مشہور ہیں۔وہ اپنی ایک دیانت دارانہ رائے رکھتے ہیں اور ایک گھنٹے دورانیے کے پروگرام میں زیر بحث لائے جانے والے موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں۔روایتی عرب ٹاک شوز کے برعکس داؤد الشریان کے میزبانوں اور ناظرین کے لیے کوئی حدود متعین نہیں ہوتی ہیں۔

میزبان ٹاک شو میں اپنے مہمانوں سے قدرے جارحانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔اس وجہ سے وہ کروڑوں ناظرین کا اعتماد اوران میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔وہ کم وبیش ہر خاندان کی پسند کے موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں۔

پروگرام میں عام لوگوں کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ کس حد تک چلے جاتے ہیں،اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب میں خیراتی اداروں کی جانب سے مہیا کیے جانے والے کھانے کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے ان کا براہ راست ٹیسٹ کیا اور خیراتی اداروں کے نمائندوں سے بھی ان کا ردعمل معلوم کیا۔

''الثامنہ مع داؤد'' پورے مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے پروگراموں میں سے ایک ہے۔یہ شو ہفتے میں پانچ دن ایم بی سی ون سے نشر کیا جاتا ہے۔اس ٹی وی ٹاک شو میں بالعموم چار مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور وہ سرکاری عہدے دار ،ماہرین ،طلبہ ،کسی خاندان کے افراد اور خواتین ہوسکتی ہیں۔