.

امریکا میں سعودی سفیر کے قتل کی سازش، گرفتار ایرانی کا اعتراف جرم

سازش کے مرکزی کردار کو 25 سال تک قید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں گرفتار ایرانی نژاد امریکی شہری منصور ارباب سئیر نے واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر کو ایرانی فوج کی مدد سے قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کا اقرار کر لیا ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے اس ایرانی نژاد امریکی شہری نے بدھ کو غیر متوقع طور پر نیویارک میں وفاقی عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اس نے امریکا میں سعودی سفیر عادل الجبیر کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی۔

ارباب سئیر کے خلاف نیویارک کی اسی وفاقی عدالت میں تئیس جنوری سے مقدمہ چلایا جائے گا اور انھیں پچیس سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ارباب سئیر پر گذشتہ سال ایک ریستوراں میں سعودی سفیر کو دھماکا خیز مواد کے ذریعے قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

اس سازش کی پندرہ لاکھ ڈالرز کی رقم سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے ایرانی حکومت کے ایجنٹوں پر اس سازش میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن اقوام متحدہ میں ایرانی مشن میں تعینات پریس اتاشی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ملزم ارباب سئیر ایرانی نژاد امریکی شہری ہے اور اس کے پاس ایرانی پاسپورٹ بھی ہے۔ اس کو 29 ستمبر 2011ء کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اپنی گرفتاری سے قبل امریکا کے شہر ٹیکساس میں ایک عرصے سے رہ رہا تھا جہاں وہ پرانی کاروں کے ایک سیلز مین کے طور پر کام کر رہا تھا۔سماعت کے بعد اسے واپس جیل بھیج دیا گیا۔



ستاون سالہ منصور ارباب سئیر پر اس کیس کے شریک ملزم غلام شکوری کے ساتھ گذشتہ سال بیس اکتوبر کو فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں نے واشنگٹن میں متعین امریکی سفیر کو قتل کرنے کی سازش تیارکی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈاٶن پے منٹ کے طور پر ایک لاکھ امریکی ڈالرز کا بندوبست کیا تھا۔



ان دونوں ملزموں پر سعودی سفیر کو قتل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا جس سے دوسرے افراد بھی خطرات سے دوچار ہوجاتے اور زخمی ہوسکتے تھے۔غلام شکوری پاسداران انقلاب ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار بتائے جاتے ہیں۔وہ امریکا سے بھاگ کر ایران واپس آ گئے تھے۔



امریکی حکام کی جانب سے دائرہ کردہ فوجداری درخواست کے مطابق منصور ارباب سئیر نے مئی 2011ء میں امریکا کے ایک خفیہ ایجنٹ کو مبینہ طورپر بم دھماکے کے لیے رقم ادا کی تھی۔اس ایجنٹ نے میکسیکو کے منشیات کے ایک اسمگلر کا روپ دھار رکھا تھا اور وہ بعد میں امریکی خفیہ اداروں کا مخبر نکلا تھا۔



امریکی حکام کے عاید کردہ الزامات کے مطابق ایران سے باہر ایک غیرملکی بنک سے امریکا میں کرائے کے اس مبینہ قاتل کے اکاٶنٹ میں ایک لاکھ ڈالرز کے لگ بھگ رقم بھیجی گئی تھی۔ امریکی حکام نے ارباب سئیر پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ اس نے القدس فورس کے اعلیٰ افسر اور اپنے کزن عبدالرضا شہلائی سے کہا تھا کہ وہ منشیات کے ایک اسمگلر کو بھرتی کریں کیونکہ منشیات فروشوں کے گینگ کرائے کے قاتل کی شہرت بھی رکھتے تھے۔