.

فرانس میں یاسر عرفات کی بیوہ سوہا سے پوچھ گچھ

لیجنڈ فلسطینی لیڈر کی زہر خورانی سے موت کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فرانس میں تفتیش کاروں نے مرحوم فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کی موت کی تحقیقات کے سلسلہ میں ان کی بیوہ سوہا عرفات سے پوچھ گچھ کی ہے۔

ذرائع کے مطابق مالٹا کی رہائشی سوہا نے پیرس کے نواح میں نانترے کے علاقے میں تحقیقات کاروں سے ملاقات کی ہے۔اسی علاقے میں انھوں نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔ تاہم اس کی اور کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

فرانسیسی تفتیش کاروں کی 26 نومبر کو تحقیقات کے سلسلہ میں مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں آمد متوقع ہے جہاں یاسر عرفات مدفون ہیں۔وہ سوئٹزر لینڈ کے ایک ریڈی ایشن انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہے ہیں۔

سوہا عرفات نے جولائی میں اپنے مرحوم شوہر کی موت کا سبب جاننے کے لیے پیرس کے نواح میں واقع علاقے نانترے میں اکتیس جولائی کو درخواست دائر کی تھی جس میں یہ کہا تھا کہ ان کے شوہر کی موت تابکاری زہر پلونیم کے استعمال کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی اور ان کی ذاتی اشیاء سے اعلیٰ درجے کی زہریلی پلونیم برآمد ہوئی تھی۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ان کا انتقال ممکنہ طور پر اسی زہر کے نتیجے میں ہوا تھا۔

سوہا عرفات نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں دفن اپنے خاوند کی قبرکشائی کرکے ان کی باقیات کے ملاحظے کی حمایت کی تھی۔انھوں نے سوئٹزر لینڈ کی لاسین یونیورسٹی کے اسپتال کی ریڈیالوجی لیبارٹری کو یاسرعرفات کی باقیات کا ٹیسٹ کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ان کے جسم میں پلونیم کے زہر کی موجودگی اور اس کے نتیجے میں موت واقع ہونے کا تعین کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ یاسر عرفات 11نومبر 2004ء کو پیرس کے نواح میں واقع ایک فوجی اسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ان کی موت کے وقت فلسطینی عہدے داروں نے اسرائیل پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے انھیں زہر دے کر موت سے ہم کنار کیا تھا۔فلسطینیوں نے اپنے طور پر بھی 2005ء میں یاسر عرفات کی موت کی تحقیقات کی تھی اور اس میں زہر خورانی ، کینسر یا ایڈز کے نتیجے میں ان کی موت کے امکان کو مسترد کردیا گیا تھا۔

اسرائیل مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا چلا آ رہا ہے اور اس نے سوہا عرفات اور فلسطینی حکام پر الٹا یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ نوبل انعام یافتہ لیڈر کی موت کی حقیقی وجوہ کو چھپانے کے لیے صہیونی ریاست پر ایسے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پلونیم سخت قسم کا زہر ہے اوراس کا فوری اثر ہوتا ہے۔ یہ فوجی اور سائنسی حلقوں سے باہر کم ہی پایا جاتا ہے۔ روس کے ایک سابق جاسوس اور پھر ماسکو حکومت کے ناقد الیگزینڈر لیٹوینکو کو اسی زہر سے ہلاک کیا گیا تھا۔ سن 2006ء میں ان کی چائے میں اس زہر کو ملا دیا گیا تھا جس کے پینے کے فوری بعد ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔