.

ایرانآبنائے ہُرمز میں ماحولیاتی تباہی کے منصوبے کی تردید

''پاسداران کو مشن کی تکمیل کے لیے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے پاسداران انقلاب نے مغربی انٹیلی جنس ذرائع کی ان رپورٹس کی تردید کردی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ملک پر عاید کردہ مغربی پابندیوں کو ہٹانے کے لیے دنیا کی اہم تجارتی آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کو ماحولیاتی تباہی سے دوچار کرنے کا ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر جنرل حسین سلامی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ''فورس کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے اس طرح کا منظرنامہ پیدا کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ حقیقت پر مبنی اپنا کام کرتی ہے''۔

انھوں نے گذشتہ اتوار کو جرمن جریدے ڈیر سپیگل میں شائع شدہ رپورٹ کے ردعمل میں کہا کہ ''اس طرح کی رپورٹس خیالی کہانیوں پر مبنی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں''۔

ہفت روزہ جرمن جریدے ڈیر سپیگل نے کسی ذریعے کا حوالہ دیے بغیر اس رپورٹ میں لکھا تھا کہ ''پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری نے ''گدلا پانی''کے کوڈ نام سے یہ منصوبہ تیار کیا ہے۔اس کے تحت ایران آبنائے ہُرمز میں آئل ٹینکر کو چٹانوں سے ٹکرا کر پانی کو آلودہ کردے گا۔اس طرح وہ وہاں سے گذرنے والے مال بردار یا تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر روک دے گا''۔

رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحری فورس کے سربراہ ایڈمرل علی فداوی بھی اس منصوبے کے شریک کار ہیں۔اس کا مقصد ایران مخالف پڑوسی عرب ریاستوں کو بھی سزا دینا ہے اور سمندری پانی کو صاف کرنے کی کارروائی میں مغربی ممالک کو حصہ لینے پر مجبور کرنا ہے۔یہ واقعہ رونما ہونے کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ تہران پر عاید کردہ مغربی پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کردیا جائے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ''سمندر میں پیدا ہونے والی آلودگی کے خاتمے کے لیے دوسرے ممالک کو ایرانی حکام کی فنی مدد درکار ہوگی اور اس مقصد کے لیے عارضی طور پر ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔اس صورت حال میں بعض ایرانی فرمیں امدادی کارروائیوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں اوران میں سے بعض پاسداران انقلاب کی ملکیت ہیں''۔

ڈیرسپیگل نے اپنی اس رپورٹ میں کسی ذریعے کا حوالہ نہیں دیا تھا ۔البتہ اس کا کہنا تھا کہ مغربی انٹیلی جنس سروسز اس منصوبے کا جائزہ لے رہی ہیں اور ایرانی حکام کو اس پر عمل درآمد کے لیے اب صرف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی منظوری درکار ہے۔

یادرہے کہ مغربی ممالک کی عاید کردہ سخت پابندیوں کے بعد ایرانی معیشت گوناگوں مسائل سے دوچار ہے جبکہ ایرانی بحریہ کے سربراہ علی فداوی اور دوسرے قائدین یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو آبنائے ہُرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گذر کر جانے نہیں دیا جائے گا جبکہ ایران کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل حسن فیروزآبادی نے چند ہفتے قبل کہا تھا کہ اس اہم آبی گذرگاہ کی بندش کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے لیکن اس کے بارے میں حتمی فیصلہ مسلح افواج کے کماندار اعلیٰ کی حیثیت سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کریں گے۔