.

ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کا عمل تیز کردیاسفارت کار

آئی اے ای اے اورایران نے تصدیق یا تردید نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے فردو کے مقام پرواقع اپنی زیرزمین جوہری تنصیب میں یورینیم کو افزودہ کرنے کا عمل تیز کردیا ہے۔

ایک مغربی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ایران نے عالمی پابندیوں کے باوجود یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مسلسل کام جاری رکھا ہوا ہے۔البتہ ابھی اس نے نئے نصب کیے گئے سینٹری فیوجز میں یورینیم افزودگی کا کام شروع نہیں کیا۔

ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) میں متعین ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ ''ہمارے خیال میں انھوں نے فردو کے مقام پر ماضی میں جاری رفتار کے ساتھ سینٹری فیوجز کی تنصیب جاری رکھی ہوئی ہے''۔

توقع ہے کہ نومبر کے وسط میں ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق آئی اے ای اے کی نئی رپورٹ منظرعام پر آئے گی اور اس میں بھی سینٹری فیوجز کی تنصیب کا تذکرہ کیا جائے گا۔آئی اے ای اے میں متعین ایک اور سفارت کار کے بہ قول یہ کام شاید تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

مغربی سفارت کاروں کے ان بیانات پر آئی اے ای اے اور ایران نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔قبل ازیں امریکا میں قائم ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس اور انٹرنیشنل سکیورٹی نے اسی ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ایران کو ایک جوہری بم کے لیے درکار یورینیم کی تیاری میں دوسے چار ماہ کا عرصہ لگے گا''۔

گذشتہ ہفتے ایرانی عہدے داروں نے کہا تھا کہ اگر ریسرچ ری ایکٹر کے لیے درکار ایندھن دے دیا جائے تو اعلیٰ درجے کی یورینیم کو افزودہ کرنے کا عمل روکنے پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی ستمبر میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ''ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں اور اسرائیل کی جانب سے فوجی حملے کی دھمکیوں کے باوجود فردو کے مقام پر زیرزمین جوہری تنصیب میں یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت دگنا کرلی ہے''۔



اس رپورٹ کے مطابق ایران نے فردو کے مقام پر یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے قریباً دوہزار سینٹری فیوجز نصب کر دیے تھے جبکہ مئی میں ان کی تعداد ایک ہزار تھی۔افزودہ یورینیم کو پرُامن مقاصد کے علاوہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔



واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی ایران کو یورینیم کی افزودگی سے روکنے پر مجبور کرنے کے لیے بیک وقت پابندیوں اور مذاکرات کو بروئے کار لارہے ہیں جبکہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔مغربی ممالک ایران پر یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔