.

تیونس جنوبی شہر میں جھڑپیں، مقامی سیکولر سیاست دان ہلاک

اسلامی جماعت کے مظاہرے کے دوران لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کے جنوبی شہر تطاوين میں جمعرات کو اسلام پسندوں اور ان کے سیکولر مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں ایک سیکولر سیاست دان ہلاک ہو گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق تشدد کا یہ واقعہ حکمراں النہضہ پارٹی سے قریب سمجھے جانے والے اسلامیوں کے ایک گروپ کے زیراہتمام مارچ کے دوران پیش آیا ہے۔ مظاہرین سیکولر جماعت نداتونس پارٹی کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

اسلامی گروپ تنظیم برائے تحفظ انقلاب سے تعلق رکھنے والے مظاہرین جب مقامی زرعی یونین کے دفاتر کے نزدیک پہنچے تو وہاں موجود یونین کارکنان نے مظاہرین پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس کے بعداسلامی جماعت کے کارکنان اور سیکولرسٹوں کے درمیان دھینگا مشتی چھڑ گئی۔ زرعی یونین کا سربراہ ندا تونس کا مقامی نمائندہ ہے۔

ندا تونس کے ایک عہدے دار خمیس کسیلہ نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کو ٹیلی فون کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ تطاوین میں ندا تونس کے رابطہ کار لوفی نقد لڑائی میں مارے گئے ہیں۔ایک اور مقامی شخص نے بتایا ہے کہ فریقین نے لڑائی کے دوران ایک دوسرے پر پتھروں اور چاقوؤں کا استعمال کیا ہے۔تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تیپ کی اطلاع کے مطابق جھڑپوں میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک سیکولر جماعت ''الجمہوری پارٹی'' کے لیڈر عایض ضمحانی نے تطاوين میں پیش آئے اس تشدد آمیز واقعہ پر وزیر داخلہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ تیونس میں گذشتہ سال برپا کردہ عوامی انقلاب کے نتیجے میں سابق آمر صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سیکولرسٹوں اور اسلام پسندوں کے درمیان آویزش چلی آرہی ہے اور دونوں ایک دوسرے پر انقلاب کو ہائی جیک کرنے کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔