.

نایاب مگر متروک قطری کرنسی نوٹ ڈھائی لاکھ ڈالر میں نیلام

لندن میں ہونے والے نیلام میں دنیا بھر سے لوگوں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قطری سرمایہ دار نے اپنے ہی ملک کے چار نایاب کرنسی نوٹ اڑھائی لاکھ ڈالرز میں خریدے لئے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کرنسی نوٹوں کی نیلامی گزشتہ روز لندن میں ہوئی جس میں قطر اور دبئی کے سن 1966ء کے جاری نوٹ نیلامی کے لئے پیش کئے گئے تھے۔

نادر کرنسی اور دیگر قدیم نوادرات جمع کرنے والی کمپنی'بون ہامز' کے زیر انتظام نیلام کا اہتمام سینٹرل لندن ایک پوش علاقے نائٹبرگ میں کی گیا تھا۔ نیلام میں برطانیہ اور عرب ممالک سمیت دنیا بھر سے سیکڑوں افراد نے اس میں شرکت کی۔

اس موقع پر قطر کے ایک، پانچ، 25 اور 100 ریال مالیت کے چار کرنسی نوٹوں کی بولی لگائی گئی۔ ایک قطری شہری نے 02 لاکھ 45 ہزار ڈالرز کی سب سے بھاری بولی دیکر یہ چاروں نادر کرنسی نوٹ خرید لئے۔ بون ہامز کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نیلام میں فروخت کے لئے پیش کیے جانے والے قطری کرنسی کے چاروں نوٹ پہلے کسی کے استعمال میں نہیں رہے۔



بون ہامز میں بولی کے ڈائریکٹر جون میلین اسٹیڈ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ گزشتہ روز قطری کرنسی کے نوٹوں کے نیلام میں دی جانے والی بولی ابتک کی مہنگی ترین پیشکش تھی۔ نیلام میں پیش کئے جانے والے نوٹ اس وقت متروک ہو چکے ہیں۔



کرنسی نوٹوں کے نیلام میں کامیاب ترین بولی دینے والی شخصیت قطری شخصیت ہے کون جس نے اڑھائی لاکھ ڈالرز میں اپنی کرنسی کے چار نوٹ خرید کیے ہیں؟ اس پر میلین اسٹیڈ نے اس کاروباری شخصیت کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ شخصیت امیر قطر تو نہیں ہیں؟ تو میلین نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

ایک اور سوال کے جواب میں میلین نے بتایا کہ کرنسی نوٹوں کے نیلام میں دلچسپی رکھنے والے سیکڑوں افراد نے شرکت کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے پچھلے کچھ عرصے میں 596 کرنسی کے نایاب کرنسی نوٹ یا سکے بولی کے ذریعے فروخت کیے ہیں۔ خلیجی ممالک کی نایاب کرنسی کے خریداروں کی اکثریت بھی انہی ملکوں سے تعلق رکھتی ہے۔