.

افغانستان زہر خورانی کے بعد فائرنگ سے 6 پولیس اہلکار قتل

باورچی اور پولیس اہلکار کی کارستانی، کھانے میں زہر ملا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے شورش زدہ جنوبی صوبہ ہلمند میں چھے افغان پولیس اہلکاروں کو ان کے پیٹی بھائیوں نے زہر دینے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔

افغان پولیس اہلکاروں کی اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہلاکت کا یہ واقعہ ضلع گریشک میں پیش آیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان احمد ضریق نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ''ایک باورچی اور ایک پولیس اہلکار نے پہلے اپنے ساتھی اہلکاروں کے کھانے میں زہر ملا دیا۔ جب وہ بے ہوش ہو گئے تو انھوں نے ان سب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا''۔

ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے، البتہ باورچی ابھی مفرور ہے۔ ہلمند پولیس کے ترجمان فرید احمد فرہنگ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب طالبان کے خود ساختہ ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ فائرنگ سے آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا اسلحہ چھین لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ زدہ ملک میں اس سال افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں ان کے اپنے ہی پیٹی بھائیوں اور غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس طرح کے حملوں کے طالبان کے جاسوسوں اور ان کے حامیوں پر الزامات عاید کیے جا چکے ہیں۔ افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں اب تک پچاس سے زیادہ غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر امریکی ہیں۔