.

شام میں یمن طرز کے انتقال اقتدار معاہدے کا موقع نہیں رہا ترکی

معرۃ النعمان میں سرکاری فوج اور باغیوں میں لڑائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترک وزیر خارجہ احمدداؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ یمن میں طے شدہ انتقال اقتدار کی ڈیل شامی بحران کے حل کے حوالے سے مناسب نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات یمن کے دارالحکومت صنعا میں وزیر خارجہ ابوبکر القربی کے ساتھ ہفتے کے روز مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''یمن کی طرح کا حکومت کی تبدیلی کا حل نو ماہ قبل شام کے لیے مناسب تھا''۔

انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''اب ہر ملک کے اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں۔ شام میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے پیش نظر یمن کی طرح کے حل کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں کیونکہ اس عرصہ کے دوران شامی شہروں پر توپخانے سے گولہ باری اور فضائی بمباری کا سلسلہ جاری رہا ہے''۔

واضح رہے کہ شامی فوج نے دوہفتے قبل سرحد پار ترکی کے علاقے آکچا قلعے میں گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں پانچ ترک شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ ترک فوج نے اس جارحیت کے جواب میں متعدد مرتبہ سرحد پار گولہ باری کی ہے۔ شام نے ترکی کے سرحدی علاقے میں گولہ باری پر معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ اس کا اعادہ نہیں ہو گا۔

ترکی کی پارلیمان نے اس واقعہ کے بعد حکومت کی درخواست پر شام کی سرحد کے ساتھ فوجی دستوں کی تعیناتی اور اس کے سرحدی علاقے میں کسی جارحیت کی صورت میں فوجی کارروائی کی منظوری دی تھی۔ ترک حکومت نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ شامی فوج کے جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں ترکی کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

ترک روزنامہ 'ملت' نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ شامی فوج کی گولہ باری کے ردعمل میں ترک فوج نے ستاسی مرتبہ شامی علاقے کی جانب گولہ باری اور فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں بارہ شامی فوجی ہلاک اور پانچ ٹینکوں کے علاوہ متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہو گَئی ہیں۔ تاہم ترک فوج کے ترجمان کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

ترک وزیر خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں شامی فوج اور باغی جنگجوؤں سے عید الاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کی اپیل کی تھی لیکن ان کی اس اپیل کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا اور فریقین کے درمیان شمالی شہر معرۃ النعمان کے نواح میں ایک فوجی اڈے پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

باغی جنگجو نو اکتوبر سے معرۃ النعمان کے نواح میں واقع وادی ضیف کے فوجی اڈے پر قبضے کے لیے حملے کر رہے ہیں اور انھوں نے اس کا تین اطراف سے محاصرہ کر رکھا ہے۔ وہاں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں اور مشین گنوں سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جبکہ اسدی فوج باغیوں اور ان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہی ہے۔