.

عزت بچانا جرم بن گیا، یمنی خاتون کو سزائے موت

رجا حکیمی پر رشتے دار قتل کرنے کا الزام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن کی ایک عدالت نے خاتون شہری رجا حکیمی کو سزائے موت سنائی ہے۔ رجا پر الزام تھا کہ اس نے مبینہ طور پر اپنی عصمت دری کی نیت سے گھر میں داخل ہونے والے اپنے ایک رشتہ دار کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

رجا حکیمی کو جنوبی صوبے ایب کی ضلعی عدالت نے پہلے دو برس قید کی سزا سنائی۔ سزا کے خلاف اپیل میں قید کی سزا کو بڑھا کر سزائے موت کر دیا گیا، جس پر خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

سن 2011ء میں نوبل انعام جیتنے والی یمنی خاتون توکل کرمان کی 'ویمن جرنلسٹ ود آؤٹ چینز' انجمن نے رجا کو سنائی گئی سزائے موت کو 'غیر منصفانہ فیصلہ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلہ تمام مسلمہ قوانین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکیمی نے ایک مسلح شخص سے خود اور اپنی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے دفاع میں ایک ایسے شخص پر فائر کیا کہ جو اس کی عزت لوٹنے کی خاطر گھر کی دیوار پھلانگ کر آیا تھا۔

یاد رہے کہ رجا حکیمی نے عدالت میں اعتراف جرم یہ کہتے ہوئے کیا کہ انہوں نے ملزم پر اپنے دفاع میں گولی چلائی۔ انہوں نے کہا کہ اپیلیٹ عدالت نے میرے بیان پر کان نہیں دھرے اور اسی لئے اب مجھے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

تاہم ایب صوبے کے ڈائریکٹر لیگل آفیئز نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'قتل کا منصوبہ پہلے سے تیار کیا گیا تھا۔