.

غزہ جانے والے فلسطینی نواز کارکنان کی کشتی پر اسرائیلی بحریہ کا قبضہ

کشتی پر قبضے کی کارروائی تشدد کے بغیر مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی بحریہ کے اہلکاروں نے غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے آنے والے فلسطینی نواز کارکنان اور ارکان پارلیمان کی کشتی پر قبضہ کر لیا ہے اور انھیں ایک اسرائیلی بندرگاہ کی جانب لے گئے ہیں جبکہ ایک فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ کشتی پر قبضے کی کارروائی پُرامن انداز میں مکمل ہوئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیلی بحریہ کے اہلکار تھوڑی دیر قبل غزہ کی پٹی کی جانب جانے والی کشتی ایم وی اسٹیلے پر سوار ہو گئے ہیں۔ یہ کشتی اسرائیلی فوج کا بحری محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہی تھی''۔

اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''کشتی پر فن لینڈ کا پرچم لہرا رہا تھا اور اسے اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ اشدود کی جانب لے جایا گیا ہے''۔ ترجمان کے بہ قول کشتی پر سوار مسافروں نے کوئی مزاحمت کی ہے اور نہ تشدد کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔

اس سے قبل کشی کے منتظمین نے 'اے ایف پی' کو بتایا تھا کہ کشتی پر غزہ کی پٹی سے پینتیس ناٹیکل میل دور حملہ کیا گیا تھا اور اس کو اسرائیل کے بحری جہازوں نے گھیرے میں لے لیا تھا۔

صہیونی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ''کشتی پر سوار مسافروں سے متعدد مرتبہ مخاطب ہونے اور رابطے کی کوشش کی گئی تھی لیکن انھوں نے اہلکاروں کی آوازوں پر کان نہیں دھرے اور انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ اس کے بعد اس کشتی پر فوجیوں نے سوار ہونے اور اس کو اشدود کی بندرگاہ کی جانب لے جانے کا فیصلہ کیا''۔

اشدود میں کشتی کی آمد کے بعد اس میں سوار فلسطینی نواز کارکنان کو اسرائیلی پولیس کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ پھر انھیں امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا جائے گا اور توقع ہے کہ وہ انھیں ملک بدر کر دیں گے کیونکہ ماضی میں اسرائیلی فوج کے ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا رہا ہے۔

فلسطینیوں کے ہمدرد انسانی حقوق کے بین الاقوامی کارکنان اسرائیلی فوج کی جانب سے گذشتہ سات سال سے جاری غزہ کی پٹی کے بری، بحری اور فضائی محاصرے کی مذمت کرتے چلے آ رہے ہیں اور وہ ماضی میں متعدد مرتبہ اسرائیلی فوج کے محاصرے کو توڑنے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی ناکہ بندی کے نتیجے میں قریباً سولہ لاکھ فلسطینی جیل نما علاقے میں بند ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ کئی ایک مسائل سے دوچار ہیں۔

یاد رہے کہ 31 مئی 2010ء کو اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے آنے والے چھے امدادی جہازوں پر مشتمل قافلے پر حملہ کر دیا تھا اور ان میں شامل ایک جہاز ماوی مارمرا پر حملے میں نو ترک رضاکار شہید ہو گئے تھے۔ اسرائیلی بحریہ نے اس حملے میں امدادی سامان لوٹنے کے علاوہ رضاکاروں کو بھی یرغمال بنا لیا تھا۔ اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی کے خلاف دنیا بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ نے اس حملے کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اسرائیل کی بحری ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون کے مطابق قرار دیا تھا لیکن اسرائیلی حملے کی مذمت کی تھی۔ ترکی نے اسرائیل سے بحری جہاز پر حملے اور اپنے شہریوں کی ہلاکتوں پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ تعلقات سردمہری کا شکار چلے آ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع ہیں۔