.

لیبیا مقتول قذافی کے سابق ترجمان موسیٰ ابراہیم گرفتار

قذافی کی برسی کے موقع پر لیبی فورسز کی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کے سابق مقتول صدر معمر قذافی کی حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم کو دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں واقع قصبے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

لیبی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''موسیٰ ابراہیم کو ترہونہ میں حکومتی فورسز نے گرفتار کیا ہے اور انھیں تفتیش کی غرض سے طرابلس منتقل کیا جا رہا ہے''۔ ترہونہ طرابلس سے ستر کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

موسیٰ ابراہیم سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے عرصہ میں سرکاری ترجمان تھے۔ وہ روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور وہ طرابلس کے لگژری ہوٹل میں کم وبیش روزانہ ہی نیوز کانفرنسیں کیا کرتے تھے۔ اسی ہوٹل میں غیر ملکی صحافی مقیم تھے۔

وہ اگست 2011ء میں طرابلس میں سابق صدر کے اقتدار کی علامت باب العزیزیہ پر باغی جنگجوؤں کے قبضے کے بعد روپوش ہو گئے تھے۔ ان کی ماضی میں بھی گرفتاری کی اطلاعات منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ ان کی گرفتاری کی اطلاع قذافی کی ان کے آبائی شہر سرت میں گرفتاری اور قتل کی پہلی برسی کے موقع پر سامنے آئی ہے۔

معمر قذافی کو 20 اکتوبر 2011ء کو سرت میں سابق باغی جنگجوؤں کے ایک ہجوم نے بڑی بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔ ان کے وحشیانہ انداز میں قتل کا ایک سال کے بعد بھی معما حل نہیں ہو سکا اور ان کے قاتلوں کے بارے میں نت روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ چند روز قبل یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ انھیں کسی لیبی باغی نہیں بلکہ فرانسیسی خفیہ ایجنسی کے ایک ایجنٹ نے سابق صدر نکولا سارکوزی کے حکم پر قتل کیا تھا۔