.

اردن القاعدہ کے حملوں کی سازش ناکام، 11 مشتبہ افراد گرفتار

مشتبہ جنگجو شام سے اردن میں داخل ہوئے: وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کی دہشت گردی کے حملوں کی سازش ناکام بنادی ہے اور اس تنظیم کے گیارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اردن کی بترا نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق ''محکمہ سراغرسانی (جنرل انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ) نے قومی سلامتی کے خلاف دہشت گردی کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا ہے اور القاعدہ سے وابستہ ایک نظریاتی گروپ کے گیارہ ارکان کو گرفتار کر لیا ہے''۔

اس سرکاری خبر رساں ادارے نے مزید بتایا ہےکہ''مشتبہ افراد دھماکا خیز مواد، کار بموں، مشین گنوں اور مارٹروں سے شاپنگ مالز، سفارتی مشنوں، ہوٹلوں اور دوسری اہم جگہوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن انھیں ان کی اس سازش کو عملی جامہ پہنانے سے قبل ہی گرفتار کر لیا گیا ہے''۔

بتایا گیا ہے کہ اردن کی انٹیلی جنس سروسز اس سازش کا سراغ ملنے کے بعد چوکنا ہو گئی تھیں اور اس کے بعد سے ان مشتبہ افراد کی حرکات وسکنات کی نگرانی کی جارہی تھی۔گرفتار کیے گئے تمام گیارہ افراد اردن کے شہری ہیں اور ان کا سلفی تحریک سے تعلق ہے۔

ایک عدالتی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ان مشتبہ دہشت گردوں کا کیس اسٹیٹ سکیورٹی عدالت (فوجی ٹرائبیونل) کو بھیج دیا گیا ہے اور اس نے ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

اس ذریعے کے مطابق ان مشتبہ افراد کے خلاف دو الزامات دہشت گردی کی کارروائی انجام دینے کی سازش اور دھماکا خیز مواد رکھنے پر فرد جرم عاید کی جائے گی اور ان دونوں جرائم کی سزا موت ہے۔ بترا نیوز ایجنسی نے ان گیارہ مشتبہ افراد کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔

درایں اثناء اردنی وزیر اطلاعات سامح معایطہ نے عمان میں اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہےکہ ''یہ گیارہ مشتبہ افراد پڑوسی ملک شام کے سرحدی علاقے سے اردن میں داخل ہوئے تھے اور وہ اسلحے سمیت رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں''۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ''حکام نے ان کے قبضے سے ہتھیار، گولہ بارود اور ان مقامات کے نقشے برآمد کیے ہیں جہاں وہ دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے''۔