.

بحرینی اپوزیشن کا ایرانی صوبائی قیادت کی حیثیت سے تہران میں اہم اجلاس

خامنہ ای کے ایلچی اور اہواز انٹیلی جنس چیف کی اجلاس میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
خلیجی ریاست بحرین میں ایرانی مداخلت پچھلے ڈیڑھ برس سے علاقائی سیاست کا اہم موضوع چلا آ رہا ہے، لیکن ایران کی جانب سے منامہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہمیشہ تردید کی جاتی رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران نواز بحرینی اپوزیشن کے ایک گروپ نے کل ہفتے کے روز تہران میں ایک اہم گول میز کانفرنس کا بھی انعقاد کیا ہے، جس میں بحرین کی کالعدم تنظیم’’تحریک احرار‘‘ کے سیکرٹری جنرل سعید الشھابی، اپوزیشن رہ نما عباس العمران، محمد کاظم الشہابی کے علاوہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مندوب حجۃ الاسلام شفیعی اور صوبہ اہواز میں ایرانی انٹیلی جنس چیف نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں بحرین کو ایران کا صوبہ بنائے جانے کے حوالے سے اپنے ہم خیال گروپوں سے رابطے بڑھانے پر زور دیا گیا۔ اس ااجلاس کا مقصد بحرین کو ایران کا صوبہ بنائے جانے کی کوششوں میں تیزی لانا تھا، یہی وجہ ہے کہ اجلاس میں شریک بحرینی حزب اختلاف کے رہ نماؤں نے خود کو بحرینی ایرانی صوبے کی نمائندہ قیادت کی حیثیت سے ظاہر کیا۔

ایران کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد میں شریک بحرینی اپوزیشن کے رہ نما صوبہ مشہد کی جامع مسجد فردوسی میں ایک عوامی اجتماع سے بھی خطاب کریں گے، جس کے بعد وہ مذہبی اہمیت کے حامل شہروں قم اور شیراز کا بھی دورہ کریں گے۔ ان شہروں کے دورے کے دوران ان کی ملاقات ایران کی مقامی قیادت سے بھی کرائی جائے گی۔

خیال رہے کہ ایرانی مندوبین کی موجودگی میں بحرینی اپوزیشن کے اس اجلاس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایران تمام تر رسمی انکار کے علی الرغم بحرین کو اپنا صوبہ بنانے کی سازشوں سے باز نہیں آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز تہران میں ہوئے اس خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بحرینی اپوزیشن رہ نما سعید الشہابی نے کہا کہ ’’ہم اپنے ملک میں ایسی کیفیت سے دوچار ہیں جس طرح لبنان میں حزب اللہ ہے۔ فریق ثانی کے ساتھ ہماری مخاصمت کی اساس بحرین کے مستقبل کے نقشہ راہ کے بارےمیں ہے‘‘۔

اجلاس سے آیت اللہ علی خامنہ ای کے مندوب حجۃ الاسلام شفیعی نے بحرینی اپوزیشن رہ نماؤں کو مخاطب کرتے ہوےئے کہا کہ ’’آپ لوگ تہران میں اسلامی انقلاب کے مہمان ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب نےبہت سے اہداف و مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ آپ لوگ بھی اسی سودے کے تاجر ہیں، جو ہمارے پاس ہے۔ آپ بھی اسی راستے کے طلب گار ہیں جس پرہم چل رہے ہیں‘‘۔

یاد رہے کہ بحرین میں پچھلے سال کے آغاز میں شورش پھوٹ پڑی تھی، تاہم خلیجی ممالک کی مداخلت کے باعث اس شورش پر قابو پا لیا تھا لیکن دوسرے ملکوں میں موجود بحرینی اپوزیشن قیادت اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ پچھلے چند ماہ کے دوران بحرینی اپوزیشن کی طرف سے ’انتفاضہ‘، جہاد، مزاحمت اور اسلحے کے استعمال کی اصطلاحات استعمال کی جا رہی ہیں ایرانی انقلاب کی تعریف وتوصیف میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔