.

جرمنی کی عدالت نے حجاب پر پابندی کو خلاف قانون قرار دیا

تُرک محجب خاتون کی درخواست پر فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جرمنی کی ایک عدالت نے اس سال مارچ میں مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی سے متعلق منظور کردہ ایک مسودہ قانون کو مسترد کرتے ہوئے حجاب پرپابندی کو خلاف قانون اقدام قرار دیا ہے۔ دارالحکومت برلن میں قائم ایک عدالت نے ہفتے کے روز ترکی کی ایک محجب ڈینٹل خاتون ڈاکٹر کی جانب سے دائر مقدمہ کی آخری سماعت کی۔ ترک خاتون نے جرمنی کی عدالت میں دعویٰ دائر کررکھا تھا کہ ایک ڈینٹل اسپتال نے اسے محض حجاب لینے کی پاداش میں ملازمت دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے ملازمت کے حصول کے لیے ترکِ حجاب کی شرط تسلیم کرنا ہوگی۔

ترک مدعیہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ جرمنی کے قانون میں تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کی تاکید کی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتا گیا۔ عدالت نے خاتون مدعیہ کے دعوے کو درست قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کسی شخص سے اس کے مذہبی تعلق کی بنیاد پر امتیاز برتنے کی اجازت نہیں دیتا۔

خیال رہے کہ مغرب میں مسلمان خواتین کے حجاب کا مسئلہ پچھلے کچھ عرصے سے سیاسی، سماجی ،ثقافتی حلقوں اور فیصلہ ساز اداروں کے ہاں شدو مد کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔ فرانس جیسے بعض یورپی ملکوں نے مسلمان خواتین کے حجاب پرپابندی کے قوانین اپنی پارلیمنٹ سے منظور کرالیے ہیں لیکن بہت سے ملکوں میں یہ معاملہ ھنوز زیربحث ہے۔ جرمنی واحد ملک ہے جس کی عدالت نے دوٹوک الفاظ میں حجاب کی حمایت کرتے ہوئے اس پر پابندی کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے۔