.

موساد کے سابق سربراہ کی ایران سے متعلق اسرائیلی موقف پر تنقید

ایران کے جوہری تنازعے پر سفارت کاری بروئے لانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ نے صہیونی ریاست کی ایران سے متعلق ڈپلومیسی پر تنقید کی ہے اور مغرب اور اسلامی جمہوریہ کے درمیان ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ''ال مانیٹر'' کی رپورٹ کے مطابق افریم ہالوے نے کہا کہ ''اگر دوسرے فریق کو مذاکرات کی میز پر لانا مقصود ہے تو شور و غوغا مختلف ہونا چاہیے تھا''۔ ان کا اشارہ اسرائیل کی ایران کے بارے میں ڈپلومیسی کی طرف تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل بہت مشکل ہو گی۔ اس کے لیے بہت زیادہ تخلیقی صلاحیت، حوصلےاور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ مسٹر ہالوے نے اپنے بیان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ ''میں سمجھتا ہوں، دشمن کے ساتھ ڈائیلاگ ضروری ہے۔ ان سے مذاکرات سے کچھ ضائع نہیں جائے گا۔ اگرچہ دعویٰ یہ تھا کہ ان سے (ایران سے) سے مذاکرات کی صورت میں انھیں جائز تسلیم کر لیا جائے گا لیکن ان سے بات نہ کر کے آپ ان کو غلط قرار نہیں دے سکتے۔ چنانچہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہم سب اپنے دشمنوں سے معاملہ کاری میں بہت زیادہ مصنوعی واقع ہوئے ہیں''۔

یاد رہے کہ مسٹر ہالوے تین اسرائیلی وزراء اعظم کے ادوار حکومت میں موساد کے سربراہ رہے تھے اور انھوں نے ہی اردن کے مرحوم شاہ حسین کے ساتھ اسرائیل کے خفیہ مذاکرات کی قیادت کی تھی جن کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان 1994ء میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔

انھوں نے ایران کے بارے میں امریکا کے روایتی موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے ''برائی کا محور'' کے تین الفاظ سے ہی اس مسئلے کو حل کر لیا تھا۔ ان کے بہ قول امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے آپشن کو محدود کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی اپنے ملک پر عاید کردہ عالمی تحدیدات کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ کی وکالت کر رہے ہیں اور وہ اس پر یک طرفہ حملے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ انھوں نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ایران کو جوہری پروگرام پر پیش رفت سے باز رکھنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے پختہ عزم کا اظہار نہیں کیا گیا''۔

وہ یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ''ایران کو ہر گز بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر پیش رفت سے روکنے کے لیے کوئی واضح (سرخ لکیر)''ریڈ لائن'' ہونی چاہیے''۔



اسرائیل اور اس کے ہم نوا مغربی ممالک ایران پر یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیل ایک جوہری ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے، اسی لیے وہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے یک طرفہ جنگ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے لیکن اس کا پشتی بان امریکا اس کو ایران پر تن تنہا حملہ کرنے سے باز رکھنے کے دباؤ ڈال رہا ہے۔