.

یمن میں القاعدہ کے نائب کمان دار نے اپنی ہلاکت کی تردید کر دی

سعید الشہری ہونے کے دعوے دار شخص کا آڈیو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن میں القاعدہ کے نائب کمان دار ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے ان رپورٹس کی تردید کر دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ گذشتہ ماہ امریکا کے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

سعید الشہری ہونے کا دعوے کرنے والے اس شخص نے ایک آڈیو بیان جاری کیا ہے۔ تاہم ان کی آواز کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔ دوسری جانب یمنی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائلٹ جاسوس طیارے کے حملے میں القاعدہ نیٹ ورک کا ایک اور سرکردہ رکن مارا گیا تھا۔

سعید الشہری کی ویڈیو یمن میں القاعدہ کے میڈیا سیل الملہم نے تیار کی ہے اور اس کو اتوار کو رات گئے جہادیوں کی ویب سائٹس پر پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے سرکردہ ارکان کی موت کی صورت میں ان کے ''شہید'' ہونے کی اطلاع دے دی جائے گی۔

آڈیو پیغام میں سعودی نژاد سعید الشہری المعروف سفیان الایزدی نے اپنی موت کی افواہ اڑانے پر یمنی حکومت کی مذمت کی ہے۔ الشہری افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں۔ انھیں وہاں سے گرفتار کرکے گوانتانامو بے میں واقع امریکا کے عقوبت خانے میں ڈال دیا گیا تھا اور وہ وہاں چھے سال تک قید رہے تھے۔

واضح رہے کہ یمن کی وزارت دفاع نے دس ستمبر کو اطلاع دی تھی کہ فوج نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے نائب کماندار کو ملک کے مشرقی علاقے حضر موت میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کردیا تھا۔ کارروائی میں سعیدالشہری کے ساتھ چھے اور دہشت گردوں کے مارے جانے کی بھی اطلاع دی تھی لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کی ہلاکت کے لیے آپریشن کب کیا گیا تھا؟



سعیدالشہری گذشتہ سال جنوبی صوبہ ابین کے ایک گاؤں المحفد پرامریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے متعدد میزائل حملوں میں بچ نکلے تھے۔انھیں امریکا کے گوانتاناموبے میں واقع بدنام زمانہ عقوبت خانے سے 2007ء میں رہا کرکے سعودی عرب کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ اپنے آبائی وطن میں جنگجوؤں کی بحالی کے پروگرام کے تحت زیرتربیت بھی رہے تھے لیکن بعد میں دوبارہ اپنی سابقہ سرگرمیوں کی جانب لوٹ گئے تھے۔

امریکی حکام ''جزیرہ نما عرب میں القاعدہ'' کو دنیا میں سب سے خطرناک دہشت گرد نیٹ ورک قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔القاعدہ کی یہ علاقائی تنظیم سعودی عرب اور یمن کی القاعدہ کے ادغام کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی۔ اس نے اپنے قیام کے بعد سے دہشت گردی کی بڑی کارروائیاں کی ہیں اور یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف تحریک کے دوران ملک کے متعدد جنوبی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔